خطباتِ ناصر (جلد5 ۔ 1973ء، 1974ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 478 of 836

خطباتِ ناصر (جلد5 ۔ 1973ء، 1974ء) — Page 478

خطبات ناصر جلد پنجم ۴۷۸ خطبه جمعه ۲۲ فروری ۱۹۷۴ء مجھے امید ہے آجائے گی ( یہ وعدے عملاً ۲ کروڑ سے او پر نکل چکے ہیں ) کیونکہ انہوں نے اس سلسلہ میں پہلی میٹنگ جو لندن میں کی اُس میں صرف ۱۵۸ احمدی شامل ہو سکے تھے۔وہاں تو کئی ہزار احمدی ہیں میرے خیال میں اس وقت انگلستان میں شاید دس پندرہ ہزار سے زیادہ احمدی ہوگا۔اس میٹنگ ( میں ) ۱۵۸ احمدی تھے اس میں دو لاکھ پاؤنڈ سے اوپر یعنی ۵۰لاکھ روپے کے وعدے ہو گئے تھے اُنہوں نے چار لاکھ پاؤنڈ کا وعدہ کیا ہے(ساڑھے تین لاکھ پاؤنڈ جمع چوہدری ظفر اللہ خان صاحب کا ۵۰ ہزار پاؤنڈ کا وعدہ جواب اُنہوں نے بڑھا کر ایک لاکھ پاؤنڈ کر دیا ہے) ممکن ہے اس سے زیادہ وہاں کی جماعت دے دے۔(وعدے ۲ کروڑ سے اوپر نکل چکے ہیں ) بہر حال رجسٹرڈ میں نے اس لئے کہا کہ بعض دفعہ ہمارے احمدی دوستوں کو چونکہ علم نہیں ہوتا وہ سمجھتے ہیں کہ یہاں سے صدر انجمن احمدیہ کا کوئی ریزولیوشن چلا جاتا ہے جس کی پابندی ان کو کرنی پڑتی ہے۔ایسا نہیں ہے بلکہ ان کی اپنی ایک رجسٹر ڈ انجمن ہے اور وہ صدرانجمن احمدیہ کے ماتحت نہیں بلکہ خلیفہ وقت کے ماتحت ہے اسی معنی میں جس معنی میں کہ صدر انجمن احمد یہ پاکستان خلیفہ وقت کے ماتحت ہے اس موضوع پر میں کسی وقت تفصیل سے بات کروں گا لیکن سر دست چند فقروں میں یہ بتا دینا چاہتا ہوں کہ اس وقت جو روحانی سلسلۂ خلافت اللہ تعالیٰ کے منشا کے مطابق مہدی معہود کی بعثت کے بعد جاری ہوا یہ سلسلہ خلافت دنیا کو امت واحدہ بنانے کے لئے قائم ہوا ہے اور اس سلسلہ کا کوئی خلیفہ بھی بھی کسی علاقے کا حاکم وقت اور بادشاہ وقت نہیں بنے گا اور دنیا کی سیاست میں خلیفہ وقت نہیں آئے گا کیونکہ ہر ملک کی اپنی سیاست ہے اور ہر ملک کے باشندوں کے ساتھ امام وقت اور خلیفہ وقت نے پیار کرنا اُن کی ہدایت کے لئے دُعائیں کرنا ان کو مشورے دینا ان کو اپنے وجودِ روحانی کا ایک جزو بنانے کی کوشش کرنا ہے تا کہ سب مل کر ایک وجود بن جائیں۔جیسا کہ میں دنیا کے سامنے کچھ عرصہ سے اس بات کو پیش کر رہا ہوں کہ میرا (مرزا ناصر احمد نہیں بلکہ خلیفہ اسیح الثالث کا ) اور جماعت احمدیہ کا ایک ہی وجود ہے۔ان دو میں کوئی فرق نہیں تو جو اس وقت حالات ہیں اور جو کام مہدی معہود کے سپرد ہیں ان کے نتیجہ میں