خطباتِ ناصر (جلد5 ۔ 1973ء، 1974ء) — Page 477
خطبات ناصر جلد پنجم ۴۷۷ خطبه جمعه ۲۲ فروری ۱۹۷۴ء جس طرح کسی دوسرے ملک کے احمدی لبیک کہتے ہیں۔(اللہ تعالیٰ کے فضل سے ) مثلاً انگلستان کا اپنا دستور ہے اور وہاں رجسٹر ڈ جماعت ہے۔اسی طرح افریقہ کے ممالک اور یورپ وغیرہ میں ان کے اپنے رجسٹر ڈ دستور ہیں۔وہ صدرانجمن احمدیہ پاکستان کے ماتحت نہیں۔ویسے صدر انجمن احمد یہ کی اس معنی میں شاخیں ہیں کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے ساری دنیا کے لئے صدر انجمن احمد یہ کو قائم کیا تھا لیکن اس معنی میں شاخیں نہیں ہیں کہ اُن پر پاکستان کا حکم لگنے لگ جائے۔اُن پر انگلستان ہی کا حکم لگے گا اور جہاں تک دنیوی احکام اور قوانین کا تعلق ہے اُن پر انگلستان کے ہی احکام اور قوانین کی پابندی فرض ہے۔جو قوانین ہیں نائیجیریاکے، نائجیر یا کی جماعت پر اُن کی پابندی لازمی ہے۔غانا، سیرالیون اور گیمبیا ، جرمنی ، ہالینڈ اور سوئٹزر لینڈ اور ڈنمارک وغیرہ وغیرہ درجنوں ایسے ممالک ہیں جہاں ہماری جماعتیں مضبوط ہوگئی ہیں۔وہاں ان کا اپنا ایک دستور ہے جو وہاں اس ملک میں رجسٹرڈ ہے تو ایسی بات نہیں ہے کہ صدرانجمن احمدیہ کا کوئی ریزولیوشن ان پر لاگو ہوتا ہے وہ خود اپنے فیصلے کرتے ہیں۔ہر دستور میں جو بنیادی چیز ہے وہ یہ ہے کہ خلیفہ وقت کی اطاعت بالمعروف ضروری ہوگی عام نگرانی تو ہے لیکن وہ اپنے فیصلے کرتے ہیں اور بڑی بشاشت سے کرتے ہیں۔مثلاً جلسہ سالانہ پر لنڈن کے مشنری انچارج امام بشیر رفیق صاحب یہاں تھے۔اُن کو میں نے پہلے بتایا تھا کہ یہ تحریک ہو رہی ہے۔اُنہوں نے کہا کہ ایک کروڑ کے وعدے انگلستان کی رجسٹر ڈ باڈی جماعت احمدیہ کی طرف سے میں پیش کرتا ہوں اور جس وقت میری طرف سے یہ اعلان ہوا اور ان کو اس کی اطلاع ملی تو جس طرح یہاں صدرانجمن احمد یہ ہے اس طرح جو ان کی مرکزی مجلس عاملہ ہے اُنہوں نے میٹنگ کی اور باہمی مشورہ کیا اور انہوں نے دو ایک روز کے اندر ہی تار کے ذریعہ مجھے یہ اطلاع دی کہ ہمیں پتہ لگا ہے کہ آپ نے یہ تحریک کی ہے اور ہم ایک کروڑ ایک لاکھ روپے کے وعدے کرتے ہیں۔اب وہاں سے جو اطلاعات آ رہی ہیں اُن سے پتہ لگتا ہے کہ وہاں جماعتوں میں قربانی کی بڑی بشاشت پیدا ہورہی ہے اور وہ کہتے ہیں کہ جو ابتدائی اڑھائی کروڑ روپے کی اپیل تھی۔ہم کوشش کریں گے کہ وہ اڑھائی کروڑ روپیہ جماعت ہائے احمد یہ انگلستان دے دیں۔اس کے لئے وہ کوشش کر رہے ہیں اور اس کی اطلاع انشاء اللہ مشاورت تک