خطباتِ ناصر (جلد5 ۔ 1973ء، 1974ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 469 of 836

خطباتِ ناصر (جلد5 ۔ 1973ء، 1974ء) — Page 469

خطبات ناصر جلد پنجم ۴۶۹ خطبه جمعه ۱۵ / فروری ۱۹۷۴ء سے اس وقت تک جو وعدے موصول ہو چکے ہیں ان کی رقم قریباً چار کروڑ روپے تک پہنچ چکی ہے، الْحَمدُ لِلهِ۔تاہم ابھی ہمارے اندرونِ ملک سے بھی بہت سے مقامات بلکہ بہت سے ضلعوں کے مجموعی وعدے بھی نہیں ملے اس لئے کہ وعدہ کرنے اور وعدوں کو یہاں پہنچانے کی میعاد شوری تک رکھی گئی ہے اور بیرون ملک جن چالیس پچاس ممالک میں احمدی بستے ہیں ، ان میں سے بھی میرے گذشتہ سے پیوستہ خطبہ جمعہ کے بعد صرف ایک ملک کے وعدے پہنچے ہیں اور وہ بھی غالباً پہلی قسط کے طور پر ہیں۔گو یا بیرونِ ملک سے بھی وعدے آنے والے ہیں۔یہ اللہ تعالیٰ کا فضل ہے کہ بعض بیرونی ممالک میں بھی اتنی مضبوط جماعت ہائے احمد یہ قائم ہو چکی ہیں کہ اُن کے سالانہ بجٹ تیس لاکھ روپے سے بھی زائد ہوتے ہیں یعنی صدرانجمن احمد یہ پاکستان کے مجموعی بجٹ کا پچاس فیصد ! غرض بڑی مضبوط اور قربانی کرنے والی جماعتیں قائم ہو چکی ہیں۔ان کی طرف سے بھی اس منصوبے کے وعدوں کی ابھی اطلاع نہیں آئی اس لئے میں سمجھتا ہوں کہ ہمارے دل میں اب یہ جو خواہش پیدا ہوئی ہے کہ اڑھائی کروڑ کی اپیل میں اللہ تعالیٰ اس قدر برکت ڈالے کہ عملاً نو کروڑ روپیہ جمع ہو جائے۔اس کے پورا کرنے کے آثار نظر آرہے ہیں۔میں اللہ تعالیٰ کے فضل سے امید کرتا ہوں کہ انشاء اللہ کم از کم اتنی رقم اگلے پندرہ سولہ سال میں ضرور جمع ہو جائے گی۔اس سکیم کے بہت سے حصے ایسے ہیں جنہیں میں بعد میں کسی وقت بیان کروں گا اور جن کی وجہ سے آمد زیادہ ہو جائے گی۔یہ منصو بہ جس وقت میرے ذہن میں آیا تو بعض دوستوں نے بھی مشورہ دیا اور خود میرے دماغ نے بھی اس کے متعلق سوچا اور مطالعہ کیا۔اس دوران میں حضرت مصلح موعود رضی اللہ عنہ کے بعض فرمان بھی میری نظروں سے گزرے۔۔۔۔اس وقت یہ ایک لحاظ سے مبہم سامنصوبہ تھا کیونکہ تفاصیل تو ذہن میں نہیں تھیں اور نہ آسکتی تھیں۔بس یہ خواہش تھی کہ نہ صرف یہ کہ صد سالہ جشن منا یا جائے بلکہ جماعت احمدیہ کی زندگی میں جب دوسری صدی شروع ہوا اور وہ صدی جیسا کہ میں گذشتہ خطبہ میں بتا چکا ہوں۔غلبہ اسلام کی صدی ہے اس لئے اس کا استقبال کرنے اس کے کاموں کی بنیادیں رکھنے اور ان کو مضبوط کرنے کے لئے ہمیں اگلے پندرہ سولہ سال میں انتہائی کوشش کرنی چاہیے۔