خطباتِ ناصر (جلد5 ۔ 1973ء، 1974ء) — Page 463
خطبات ناصر جلد پنجم ۴۶۳ خطبه جمعه ۸ فروری ۱۹۷۴ء علاوہ اُس تعداد کے جو ہمارا معمول ہے۔ہر ایک کا اپنا معمول ہوتا ہے۔غور وفکر کرنے والے سورۂ فاتحہ کو ویسے بھی بار بار پڑھ رہے ہیں) اور سُبحَانَ اللَّهِ وَبِحَمْدِهِ سُبْحَانَ اللَّهِ الْعَظِيم - اللَّهُمَّ صَلِّ عَلَى مُحَمَّدٍ وَ آل مُحَمَّد - تینتیس بار روزانہ اور اَسْتَغْفِرُ اللَّهَ رَبِّي مِنْ كُلِ ذَنْبٍ وَ اَتُوْبُ إِلَيْهِ تینتیس بار روزانہ پڑھنا اور رَبَّنَا أَفْرِغْ عَلَيْنَا صَبْرًا وَ شَيْتُ أَقْدَامَنَا وَانْصُرْنَا عَلَى الْقَوْمِ الْكَفِرِينَ - اَللّهُمَّ إِنَّا نَجْعَلُكَ فِي نُحُوْرِهِمْ وَنَعُوذُبِكَ مِنْ شُرُوْرِهِمْ۔اس دعا کا گیارہ بار روزانہ پڑھنا یہ ذکر کے ماتحت ایک نفلی عبادت ہے۔جو اس منصوبہ میں برکت ڈالنے کی خاطر اس وقت میں جماعت کے سامنے رکھ رہا ہوں۔اس کے علاوہ جیسا کہ میں نے پہلے کہا دو نفل روزانہ اور ہر ماہ میں ایک روزہ اُس طریق پر جو ابھی میں نے بتایا اور اُن شرائط پر جن کو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسلامی ہدایت کے مطابق قائم کیا ہے۔جس میں نوع انسانی کی دُنیوی ضرورتوں کا خیال رکھنا بھی شامل ہے۔جس میں نوع انسانی کی اُخروی و روحانی ضرورتوں کا خیال رکھنا بھی شامل ہے۔جس میں اپنے نفس کا خیال رکھنا بھی شامل ہے۔یہ بنیادی طور پر تین شرائط مختلف شکلوں میں ہیں اور قرآن کریم کی تلاوت اور اس پر غور کرنا۔قرآنِ کریم پڑھتے وقت جو اللہ تعالیٰ کی صفات سامنے آتی ہیں ان پر غور کرنا۔قرآن کریم پڑھتے وقت انسان کی صلاحیتیں یعنی جن طاقتوں اور صلاحیتوں اور استعدادوں کو لے کر انسان پیدا کیا گیا ہے وہ سامنے آتی ہیں ان کی نشو و نما کی ذمہ داری سامنے آتی ہے۔قرآنِ کریم نے ان تمام صلاحیتوں کی نشوونما کے طریق بتائے ہیں۔یہی چیز ہے جو ہم نے دنیا میں قائم کرنی ہے اور اسی غرض کے لئے اس منصو بہ کو بنایا گیا ہے۔اور جیسا کہ میں نے کہا ذ کر کے عنوان کے ماتحت جن دعاؤں کا میں نے ذکر کیا ہے اُن کے علاوہ اپنی زبان میں خدا تعالیٰ کے حضور تضرع کے ساتھ گڑ گڑاؤ اور اُس کی مدد حاصل کرنے کی اور اُس کی رضا کے حصول کی اور اُس سے طاقت حاصل کرنے کی کوشش کرو کیونکہ یہ عظیم منصوبہ یا ایک پاگل سوچ سکتا ہے یا ایک مخلص جانثار جو اللہ تعالیٰ کی معرفت رکھتا ہو اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی عظمت کو پہچانتا ہو اس کے دماغ میں آسکتا ہے تو اگر آپ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی عظمت کو پہچانتے نہیں تو پھر آپ پاگل ہیں جو منصو بہ سوچ رہے ہیں۔