خطباتِ ناصر (جلد5 ۔ 1973ء، 1974ء) — Page 462
خطبات ناصر جلد پنجم ۴۶۲ خطبہ جمعہ ۸ فروری ۱۹۷۴ء ج۔تیسرے نمبر پر استغفار اور تو بہ ہے۔اَسْتَغْفِرُ اللَّهَ رَبِّ مِنْ كُلِ ذَنْبٍ وَ أَتُوْبُ إِلَيْهِ تینتیس بار روزانہ اُس گنتی سے زائد جس کی عادت اور جس کا دستور کسی شخص نے بنایا ہو۔یہ زائد استغفار اور تو بہ کرنی ہے تا کہ جیسا کہ خطبہ میں میں نے ایک آیت قرآنی پڑھ کے آپ کو بتایا تھا کہ اس کے نتیجہ میں آسمانوں سے بارش کی طرح خدا تعالیٰ کی رحمتیں نازل ہوتی اور خلوص نیت رکھنے والوں کی زبانوں پر جب استغفار اور تو بہ کے کلمات جاری ہوتے ہیں تو اللہ تعالیٰ کی طرف۔۶۶ سے اُس شخص یا اس جماعت کو قوت کے بعد اور قوت دی جاتی ہے اور ایسا ہوتا ہی چلا جاتا ہے۔د۔چوتھے یہ کہ ربَّنَا أَفْرِغْ عَلَيْنَا صَبْرًا وَ ثَبِّتُ أَقْدَامَنَا وَ انْصُرْنَا عَلَى الْقَوْمِ الْكَفِرِينَ اللهُمَّ إِنَّا نَجْعَلُكَ فِي نُحُوْرِهِمْ وَنَعُوذُبِكَ مِنْ شُرُوْرِهِمْ - یہ گیارہ بار پڑھی جائے کیونکہ پہلی جو ہے اُس کی عادت بھی ہے اور میرا اندازہ ہے کہ نو جوانوں نے بھی اپنا لیا ہو گا۔اس میں میرا اندازہ ہے کہ تیس لاکھ احمدی شاید نہ پڑھ سکیں اس لئے میرا اندازہ ہے کہ کم از کم یہ سارے اندازے میرے کم از کم کے ہیں ) دس لاکھ احمدی مردوزن گیارہ باران دو دُعاؤں کو پڑھیں۔ایک قرآن کریم کی اور ایک حدیث نبوی کی ہے اور اس طرح ہر روپیہ جو ہم خدا کے حضور پیش کریں گے۔چھیاسٹھ بار ہم خدا سے یہ کہیں گے کہ اے خدا جو تیرے نام کو مٹانا چاہتی ہیں ان طاقتوں کے مقابلہ پر تیرے یہ عاجز بندے کھڑے ہوئے ہیں اور کمزور ہیں ہر لحاظ سے ہم نے ایک منصوبہ بنایا ہے۔اس منصوبہ کے مطابق تیری محبت کو انسان کے دل میں پیدا کرنا چاہتے ہیں لیکن دشمن انسان کو وہ دشمن جو اے خدا! تیرا بھی دشمن ہے اور انسانیت کا بھی دشمن ہے تیرے انسان کو تجھ سے دور لے جانا چاہتا ہے۔اس واسطے ہم تیرے حضور جھکتے ہیں اور بار بار جھکتے ہیں اپنی ایک مادی کوشش کے لئے چھیاسٹھ بار تیرے حضور جھکتے اور تجھ سے یہ طلب کرتے ہیں عاجزانہ طور پر تجھ سے مانگتے ہیں رگڑ گڑاتے ہیں تیرے حضور تڑپتے ہیں تیرے پاس آ کر کہ تو ہماری اس مادی قربانی کو قبول کر اور اس میں برکت ڈال اور ہمارے اس منصو بہ کو جو تیرے انسان کے فائدے اور اپنی روح کے فائدے اور تیری رضا کو حاصل کرنے کے لئے بنایا گیا ہے اُسے تو کامیاب کر دے۔پس ذکر کے اندر یہ چار پہلو ہیں۔سورہ فاتحہ کا سات بار روزانہ پڑھنا۔