خطباتِ ناصر (جلد5 ۔ 1973ء، 1974ء) — Page 460
خطبات ناصر جلد پنجم ۴۶۰ خطبه جمعه ۸ فروری ۱۹۷۴ء ساتھ خدا تعالیٰ کی طرف جھکتے ہوئے مالی قربانی نہیں کی جاتی وہ اپنے نتائج نہیں نکالا کرتی۔تو روزہ ہر ماہ ایک اور نوافل ہر روز دو رکعت اور ان کا جو وقت ہے وہ عشاء سے لے کر صبح کی اذان کے درمیان یا نماز ظہر کے بعد کوئی وقت مقرر کر لیں۔یہ انفرادی ہے سوائے اس کے کہ کہیں اکٹھے ہو کر بھی پڑھ لیں۔مسجدوں میں جہاں تک ممکن ہولیکن بہر حال یہ انفرادی نوافل ہیں۔جو بچے ہیں وہ بعض دفعہ تو عشاء کی نماز میں بھی اُونگھ رہے ہوتے ہیں۔ان کو یہ کہنا کہ تم تہجد پڑھو یا نماز عشاء کے بعد نوافل پڑھو۔یہ ان کو ایسی تکلیف دینا ہے جس کی وہ طاقت نہیں رکھتے لیکن ظہر کے بعد وہ دو رکعت نفل پڑھ سکتے ہیں۔یہ دونفل اُن نوافل سے زائد ہیں جن کی پہلے سے کسی احمدی کو عادت ہے اور وہ نفل کی صورت میں پہلے سے پڑھ رہا ہے۔اُن کو یہ دونفل زائد کرنے پڑیں گے۔ذکر۔( روزہ نفل نماز پڑھنا اور ذکر ) ذکر کے مختلف پہلو ہیں جن کو میں اس وقت بیان کر رہا ہوں ایک ہے ذکر۔سورۂ فاتحہ کی تلاوت۔سورۂ فاتحہ قرآنِ کریم کا نچوڑ بھی ہے اور خالی نچوڑ نہیں بلکہ۔۔۔۔۔اتنا حسن ہے اس اختصار میں اور اتنی تفصیل ہے اس اجمال میں اور اتنے پیار کی جھلک ہمیں نظر آتی ہے اللہ تعالیٰ کے اس احسان میں کہ قرآنِ کریم کا خلاصہ ہمیں سورہ فاتحہ کی شکل میں دے دیا اور اتنی خوشبو ہے اس کی روحانیت میں کہ اس کا اندازہ لگانا مشکل ہے۔پس سورۃ فاتحہ بہت بڑا ذ کر ہے ہم اسے بہت دفعہ پڑھتے ہیں۔نماز کی ہر رکعت میں ہم پڑھتے ہیں لیکن میں یہ چاہتا ہوں کہ جتنی بار اب ہم پڑھ رہے ہیں اس سے زیادہ سات بار روزانہ ایک احمدی سورۂ فاتحہ کو پڑھے۔اور اس کے مطالب پر غور کرے اور اس کے لئے میرا اندازہ ہے کہ اگر دنیا میں بسنے والے سب احمدی اس طرف توجہ کریں تو تیس لاکھ احمدی ایسا ہو گا جو سورہ فاتحہ سات بار روزانہ پڑھ سکتا ہے مگر اس میں میں یہ ضرور کہوں گا کہ ماں باپ اپنے گھر میں بچوں کو اکٹھی سات مرتبہ نہ پڑھا ئیں کیونکہ اس سے وہ اُکتا جائیں گے بلکہ دو دفعہ سے زیادہ کسی وقت نہیں۔اپنے بچوں سے سورۂ فاتحہ پڑھائیں۔جو چھوٹے بچے ہیں پانچ یا سات سال کے اور خدام الاحمدیہ کے قواعد کے مطابق ابھی اطفال الاحمدیہ کی تنظیم میں داخل نہیں ہوئے ان سے بھی پڑھا ئیں اور جو چھوٹے بچے