خطباتِ ناصر (جلد5 ۔ 1973ء، 1974ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 459 of 836

خطباتِ ناصر (جلد5 ۔ 1973ء، 1974ء) — Page 459

خطبات ناصر جلد پنجم ۴۵۹ خطبه جمعه ۸ فروری ۱۹۷۴ء انسان کی یہ آخری جنگ ہے اور یہ انسان جو آج تیرے مہدی معہود کی آواز پر لبیک کہتے ہوئے تیری طرف لوٹا اور تیرے قدموں پر آ کر گر گیا ہے یہ کمزور انسان ہے جوتُو نے منصوبہ بنایا ہے اُس سے تیری شان کے مطابق جو نتائج نکلنے چاہئیں تو ہماری تدبیروں میں وہی برکتیں ڈال دے۔وَلَا فَخُر اور ہمیں کوئی فخر نہیں۔فخر کر ہی نہیں سکتا انسان۔یہی ہم نے سنتِ نبوی سے سیکھا اور یہی ایک حقیقت ہے۔جیسا کہ میں نے کہا اگر پانچ لاکھ احمدی بڑا اور چھوٹا مرد و زن اس روزے کی طرف (جو میں تحریک کر رہا ہوں عبادات میں سے نمبر ایک) اس کی طرف توجہ کرے تو نو کروڑ روزے اس منصوبہ کے زمانہ میں رکھے جائیں گے۔اور نو کروڑ دنوں میں اس کے لئے خاص طور پر اللہ تعالیٰ کے حضور اجتماعی دعا ئیں ہوں گی۔دوسری تحریک نوافل کی ہے یعنی با قاعدہ جس طرح نماز پڑھی جاتی ہے۔نماز میں فرض بھی ہیں اور سنتیں بھی ہیں اور نوافل بھی ہیں۔نوافل کے متعلق میں یہ کہنا چاہتا ہوں کہ ہر احمدی جس پر نماز فرض ہے ( بعض تو ایسے بچے ہوتے ہیں جن کو شوقیہ اور شوق پیدا کرنے کے لئے اور نماز کی عادت ڈالنے کے لئے ہم نماز پڑھاتے ہیں ایک ایسی عمر ہے جہاں نماز فرض ہو جاتی ہے۔تو ہر وہ احمدی بچہ یا بڑا یا عورت جن دنوں میں اس پر نماز فرض ہے۔جس پر بھی نماز فرض ہے وہ دو رکعت نفل روزانہ پڑھے۔اس منصوبہ میں برکت پیدا کرنے کے لئے دعائیں کرنے کی غرض سے اور روزوں کے متعلق میرا اندازہ پانچ لاکھ افراد کا تھا لیکن نفلوں کے متعلق میرا اندازہ دس لاکھ افراد کا ہے اور دس لاکھ احمدی اگر روزانہ دو نفل پڑھ رہا ہو تو فی روپیہ ( نو کروڑ رو پید اگر آ جائے اُس کے لحاظ سے فی روپیہ ) ایک سو بائیس نوافل بنتے ہیں۔خدا تعالیٰ کے حضور جو ایک روپیہ قربانی کے لئے پیش کیا جائے ایک سو بائیس نوافل پڑھ کر دُعائیں کر کے پیش کریں تا کہ عاجزی کا اور نیستی کا احساس ہمارے دلوں میں پیدا ہو اور ہمیں محسوس ہو کہ روپیہ دینا فخر کی بات نہیں ہے کہ ہم نے ایک روپیہ دے دیا یا ایک لاکھ روپیہ دے دیا یا نو کروڑ روپیہ اجتماعی طور پر دے دیا اصل تو یہ کہ جب تک نیک نیتی کے