خطباتِ ناصر (جلد5 ۔ 1973ء، 1974ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 448 of 836

خطباتِ ناصر (جلد5 ۔ 1973ء، 1974ء) — Page 448

خطبات ناصر جلد پنجم ۴۴۸ خطبه جمعه یکم فروری ۱۹۷۴ء ہمارے دلوں میں تو آج بھی نہیں ہے لیکن دنیا کی اکثریت بلکہ مسلمانوں کی اکثریت بھی اس شبہ میں ہے کہ ابھی وہ وقت نہیں آیا کہ اسلام ساری دنیا پر غالب ہو جائے۔اُن کو یہ نظر نہیں آرہا کہ اسلام کے غلبہ کے سامان پیدا کر دیئے گئے ہیں۔ہم خدا کی رحمت سے مہدی معہود کے زمانے کو پانے اور آپ کو شناخت کرنے والے ہیں، ہمیں یہ نظر آ رہا ہے اُن بشارتوں کو پورا ہوتے دیکھ کر جو اسلام کی نشاۃ ثانیہ کے لئے دی گئی ہیں اور خدا کے اس سلوک کو دیکھ کر جو اس کا جماعت سے ہے اور خدا تعالیٰ کے ان معجزات کو دیکھ کر جو ہمارے بڑوں اور ہمارے چھوٹوں نے دیکھے ہیں اور جو ہمارے مغرب اور ہمارے مشرق اور ہمارے شمال اور ہمارے جنوب میں ظاہر ہورہے ہیں ہم علی وجہ البصیرت اس مقام پر کھڑے ہیں کہ غلبہ اسلام کا زمانہ آ گیا اور یہ زمانہ مہدی معہود کا زمانہ ہے اور وہ صدی جس میں عملاً اسلام دنیا میں غالب آنا شروع ہو جائے گا، وہ شروع ہونے والی ہے اس سے پہلی ( یعنی موجودہ ) صدی میں اسلام کے عظیم محل اور حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے عظیم قلعے کی عمارت کو بنانے کے لئے جن مضبوط بنیادوں کی ضرورت تھی وہ تیار ہوتی رہیں۔اب صدی ختم ہورہی ہے۔قریباً سولہ سال باقی رہ گئے ہیں۔گویا پہلی صدی میں قربانیاں دینے کے لحاظ سے ایک آخری دھکا لگا نا رہ گیا ہے اس کے لئے یہ ۱۶ سالہ سکیم بنائی گئی ہے تا کہ اسلام کے غلبہ کے سامان جلد پیدا ہوں۔پس اسلام تو انشاء اللہ خدا کے فضل اور اس کی رحمت سے ساری دنیا پر غالب آئے گا۔دوسرے مذاہب اسلام کے عالمگیر غلبہ کا ابھی احساس نہیں رکھتے البتہ اپنی موت کا احساس ان کے اندر پیدا ہو گیا ہے اگر دوسرے سارے مذاہب نے مٹ جانا ہے اور اگر اسلام نے بھی غالب نہیں آنا تو پھر دنیا سے مذہب مٹ جائے گا اور اس کی جگہ دہریت آجائے گی جو لوگ اس وقت دہر یہ ہیں وہ اسی زعم میں ہیں۔اُن کا یہ خیال ہے کہ اب وہ دنیا پر غالب آجائیں گے کیونکہ وہ یہ سمجھتے ہیں کہ دنیا کی بہت بڑی مادی اور فوجی طاقت ان کے ہاتھ میں ہے اور دنیا کی مجموعی دولت کا ایک بڑا حصہ ان کے پاس ہے اس لئے وہ یہ سمجھتے ہیں کہ وہ اپنی طاقت کی وجہ سے اور اپنی دولت کے نتیجہ میں دنیا پر غالب آجائیں گے مگر ہم جو ایک کمزور جماعت کی طرف منسوب