خطباتِ ناصر (جلد5 ۔ 1973ء، 1974ء) — Page 424
خطبات ناصر جلد پنجم ۴۲۴ خطبہ جمعہ ۱۸؍جنوری ۱۹۷۴ء کی ہدایت کے لئے بھی۔اس لئے ہمارے دل اللہ تعالیٰ کی حمد سے معمور ہیں اور اُسی کے فضل سے انشاء اللہ تعالیٰ معمور رہیں گے جب تک کہ اس دنیا کا خاتمہ نہ ہو جائے اور اسلام ساری دنیا پر غالب آ کر نوع انسانی میں سے ہر فرد کو اپنے احاطہ میں لے کر اُس کی زندگی کو حقیقی انسان کی زندگی بنا کر کامیاب نہیں ہوجاتا اور پھر نسلاً بعد نسل انسانی تربیت کو کمال تک نہیں پہنچادیتا۔انشاء اللہ تعالیٰ یہ اُس کی بشارتیں ہیں۔یہ اُس کے وعدے ہیں اور وہ اپنے وعدوں کا سچا ہے۔یہ تو حمد کا حصہ ہے عزم کا جو حصہ ہے اُس کا زیادہ تر تعلق ہمارے نفوس کے ساتھ ، ہماری جماعت کی کوششوں کے ساتھ ، ہماری والہانہ حرکت کے ساتھ ، ہمارے مستانہ وارنعروں کے ساتھ ہے۔اس یقین کی بنا پر کہ دنیا کی کوئی طاقت خدا تعالیٰ کے اس منشا اور تحریک کو نا کام نہیں کرسکتی۔عزم کے محل استوار کرنا ہماری صفت ہے اور اس سے ہی عظیم جد و جہد اور کوشش کے حسین اور صاحب احسان دھارے چھوٹ نکلتے ہیں جو راہ کے ہر خس و خاشاک کو بہا کر لے جاتے ہیں اور مرد مومن، مسلم، مجاہد اپنے مقصود کو پالیتا ہے اور جس وقت یہ حقیقت انسان کے سامنے آتی ہے تو کمزور انسان بھی ایک پختہ اور مضبوط مقام پر کھڑا ہو جاتا ہے۔اسی کو ہم عزم کہتے ہیں۔اُس کے لئے ہم نے ایک اور منصوبہ بنایا ہے جو دعاؤں کے نتیجہ میں اور ہماری قربانیوں کے نتیجہ میں اور اللہ تعالیٰ پر توکل کے نتیجہ میں اور سیچ تو یہ ہے کہ اُسی کی رحمتوں کو جذب کرنے کے نتیجہ میں انشاء اللہ کامیاب ہوگا۔پس یہ حمد اور عزم اگلے سولہ سال کے بنیادی ماٹو ( Motto) ہیں۔یہ دو چیزیں ہیں جن کی برکت سے ہم نے اسلام کو غالب کرنا اور نوع انسانی کے دل خدائے واحد و یگانہ کے لئے جیتنا ہے۔دوسری بات جو اس وقت کہنا چاہتا ہوں وہ یہ ہے کہ وقف جدید کا نیا سال یکم جنوری سے شروع ہو چکا ہے۔وقف جدید حضرت مصلح موعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی ایک خاص تحریک ہے۔اس کے کام میں اتنی وسعت نہیں لیکن اس کے نتائج بڑے خوشکن نکل رہے ہیں۔پاکستان میں لاکھوں ہندو بھی بستے ہیں اور ان کا یہ حق ہے کہ وہ لوگ جو اسلام کو سچا سمجھتے اور اس میں حقیقی صداقت پاتے ہیں اور اپنی زندگیوں میں اس کی برکات کو محسوس کرتے ہیں وہ ان لوگوں کو بھی حلقہ اسلام میں لانے کی کوشش کریں جو اس دائرہ سے باہر اور ان برکات سے محروم ہیں لیکن کم ہیں جو اس طرف