خطباتِ ناصر (جلد5 ۔ 1973ء، 1974ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 423 of 836

خطباتِ ناصر (جلد5 ۔ 1973ء، 1974ء) — Page 423

خطبات ناصر جلد پنجم ۴۲۳ خطبہ جمعہ ۱۸؍ جنوری ۱۹۷۴ء ساتھ تضاد کا تخیل اکٹھا ہو ہی نہیں سکتا۔صداقت تو ایک سیدھی راہ ہے اور تضاد ایک ٹیڑھا راستہ ہے کبھی دائیں طرف نکلتا ہے اور کبھی بائیں طرف نکلتا ہے اور جو سیدھی راہ ، درمیانی راہ ، اللہ تعالیٰ تک پہنچانے والی راہ جو اللہ تعالیٰ کے پیار کو حاصل کرنے والی راہ ہے اُس سے بھٹکتا ہے۔کبھی دائیں طرف بھٹکتا ہے کبھی بائیں طرف بھٹکتا ہے۔بہر حال صداقت کو، صراط مستقیم کو، نہ تضاد کی ضرورت کبھی پیدا ہوئی نہ جھوٹ کا سہارا لینے کی خواہش کبھی پیدا ہوئی۔ہمیں اللہ تعالیٰ نے حقیقی اسلام کی ابدی صداقت پر قائم کیا۔اُس نے محض اپنے ہی فضل اور رحمت سے اپنی صفات کی معرفت ہمیں عطا کی ہے۔ہم اسکی عظمتوں کو پہچانتے ہیں۔وہ خدا جو جھوٹ کا دشمن ہے اُس کی عظمتوں کے پہچاننے کے بعد ہم کبھی یہ سوچ بھی نہیں سکتے کہ اس عظیم ہستی کی محبت اور عظمت کو قائم کرنے کے لئے کبھی ہمیں جھوٹ بولنے کی بھی ضرورت پڑے گی۔صداقت اور سچائی سے اُس حقیقی صداقت اور سچائی کی طرف حسین اعمال سے حسن کے سرچشمہ کی طرف ، نوع انسانی پر ہمیشہ احسان کرتے ہوئے محسن حقیقی کی طرف بلانا ہمارا کام ہے اور وہ جو جھوٹ کی طرف جھکتے ہیں تا کہ اس صداقت کو مٹادیں وہ جو ایک ہی سانس میں متضاد باتیں بیان کرتے ہیں ہماری دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ ان کے لئے بھی ہدایت اور رحمت کے سامان پیدا کرے اور اس حقیقت کو وہ سمجھنے لگیں کہ جو سچ ہے وہ جھوٹ کی طرف مائل نہیں ہو سکتا اور جو سیدھی راہ ہے اُس میں تضاد نہیں پائے جاتے ، ٹیڑھا پن نہیں پایا جا تا۔جو ابھی میں نے اصولی باتیں بیان کیں اُن کے پس منظر کچھ واقعات ہیں جن کا ذکر کرنا میں مناسب نہیں سمجھتا چونکہ ہمیں یہ نظر آیا کہ جس صداقت پر ہمیں اللہ تعالیٰ نے قائم کیا اور جس صداقت کو کبھی نہ تضاد نہ کذب و افترا کی ضرورت پیش آئی اُس کے خلاف کذب و افترا اور متضاد بیانات کا جاری ہو جانا ہمیں خدا تعالیٰ کی حمد سے معمور کر دیتا ہے کیونکہ اُس نے ہمیں بتایا تھا کہ جب وہ کسی کوشش کو قبول کرتا ہے، کسی قربانی کو قبول کرتا ہے تو دنیا میں حاسدوں کا ایک گروہ پیدا کر دیتا ہے جو حسد کی آگ کو بھڑکاتے اور سمجھتے ہیں کہ یہ آگ اس صداقت کو بھسم کر دے گی ، جلا کر راکھ کر دے گی حالانکہ حسد کی آگ مومنوں کے وجود میں زندگی کی حرارت پیدا کرنے والی ہوتی ہے جس سے دُعا ئیں گریہ وزاری کے ساتھ نکلتی ہیں۔غلبہ اسلام کے لئے بھی اور ان لوگوں