خطباتِ ناصر (جلد5 ۔ 1973ء، 1974ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 415 of 836

خطباتِ ناصر (جلد5 ۔ 1973ء، 1974ء) — Page 415

خطبات ناصر جلد پنجم ۴۱۵ خطبہ جمعہ ۲۸ /دسمبر ۱۹۷۳ء 66 دے کر خدا کی پاک کلام کو کو نہ اندیش فلسفیوں کے استخفاف سے بچایا ہے۔“ لوگوں نے اپنی کو نہ اندیشی کے نتیجہ میں فلسفہ، منطق اور دوسرے علوم کی رُو سے جو نتائج نکالے ان کی بنا پر قرآن کریم کی تعلیمات پر مختلف اعتراض کئے مثلاً پادریوں نے ایک زمانہ میں یہ اعتراض کر دیا کہ قرآن کریم نے کہا ہے کہ شہد کی مکھی کے اندر سے ایک پینے والی چیز یعنی شہر نکلتا ہے اور اس میں شفا کی بہت سی خصوصیات پائی جاتی ہیں حالانکہ مکھی پھولوں کے رس سے شہد بناتی ہے اس کے اندر سے تو شہر نہیں نکلتا۔یہ اعتراض دراصل غفلت اور عدم علم کا نتیجہ تھا۔بعد میں جب مکھی اور اس کے شہد بنانے پر تفصیلی تحقیق ہوئی تو ہمیں دو چیزوں کا پتہ لگا۔ایک یہ کہ کھی پھولوں سے جو رس لاتی ہے وہ شہد کی شکل میں نہیں ہوتا۔وہ تو ایک پانی کی شکل میں مائع سی چیز ہوتی ہے شیرے کے قوام کی طرح اس کے اندر شہد کا قوام نہیں ہوتا۔مکھی پھولوں کا رس لا کر اس میں دو چیزیں اپنی کوشش سے زائد کرتی ہے۔اس کی ایک کوشش یہ ہوتی ہے کہ وہ اس مائع کو گاڑھا قوام بنائے۔چونکہ پھولوں کے رس میں پانی کی فیصد زیادہ ہوتی ہے اس لئے رس کے ایک ایک ذرہ کو خشک کرنے کے لئے اسے کئی سومیل حرکت کرنی پڑتی ہے۔زبان کو اندر باہر لیجا کر اور بڑی محنت کرنی پڑتی ہے تب جا کر مائع قوام بنتا ہے اور پھر یہیں پر بس نہیں ہوتی بلکہ اپنے جسم میں سے وہ مختلف غدود کے رس سے جنہیں اللہ تعالیٰ نے اپنی حکمت کا ملہ سے مکھی میں پیدا کر رکھا ہے اور جن میں شہد کے قریبا نصف اور ضروری حصے پائے جاتے ہیں وہ شہد میں شامل کرتی ہے گویا شہد میں پچاس فیصد حصہ مکھی کے اپنے غدود کے رس کا ہوتا ہے جو اللہ تعالیٰ کی حکمت کا ملہ کے نتیجہ میں شہد میں شامل کر دیا جاتا ہے۔بسا اوقات ہمارے ہاں دودھ میں ۹۵ فیصد پانی ہوتا ہے۔بایں ہمہ لوگ اسے دودھ ہی کہتے ہیں تو شہد میں جبکہ پچاس فیصد سے زیادہ شہد کی مکھی کی اپنی محنت اور فطرت کا دخل ہوتا ہے تو اس کے مکھی کے پیٹ میں سے نکلنے پر اعتراض بے معنی ہے غرض اللہ تعالیٰ نے ایسے سامان پیدا کر دیئے اور ان سے اپنے بعض بندوں کو فائدہ اٹھانے کی توفیق عطا فرمائی اور خدا کے فعل نے معترضین کو ملزم قرار دیا اور ہمیں اللہ تعالیٰ نے یہ توفیق دی کہ ہم ان کا مذاق اڑائیں۔وہ قرآن کریم کو استخفاف کی نظر سے دیکھنا چاہتے تھے مگر ہم نے دنیا پر یہ