خطباتِ ناصر (جلد5 ۔ 1973ء، 1974ء) — Page 414
خطبات ناصر جلد پنجم ۴۱۴ خطبہ جمعہ ۲۸ /دسمبر ۱۹۷۳ء کے خدا کی پاک کلام اور پاک تعلیم کو ہر ایک زمانہ میں تحریف معنوی سے محفوظ رکھا۔“ پس جہاں تک تحریف معنوی کا تعلق ہے قرآنِ کریم کو معنوی تحریف سے بچانے کے لئے اللہ تعالیٰ نے اپنے مقربین کا ایک سلسلہ اُمت محمدیہ میں جاری کیا۔یہ مقتر بین الہی پہلی صدی سے لے کر آج تک ہزاروں لاکھوں کی تعداد میں ہر صدی میں موجود رہے ہیں۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے ایک جگہ فرمایا ہے کہ مسلمانوں پر فیج اعوج یعنی انتہائی تنزل کا جو زمانہ آیا تھا اس میں بھی اللہ تعالیٰ کے مطہر بندوں کی جماعت سمندر کی لہروں کی طرح موجیں مار رہی تھی۔تاہم مسلمان کہلانے والوں کی اکثریت اسلام سے دُور جا رہی تھی اور قرآن کریم کو مہجور بنا چکی تھی۔قرآن کریم کے متعلق اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ یہ قرآن کریم ہے اور کتاب مکنون میں ہے اور پھر اس حصہ کے متعلق فرمایا: - لَا يَمَسُّةٌ إِلَّا الْمُطَهَّرُونَ (الواقعة :۸۰) اس حصّہ تک صرف پاکیزہ لوگوں یا جماعتوں کی پہنچ ہوتی ہے اور یہ واقعہ اور حقیقت کہ قرآنِ عظیم غیر متناہی بطون اور اسرار کا مالک ہے۔دنیا پر اس بات کو ثابت کرتی ہے کہ قرآنِ کریم منجانب اللہ ہے۔اللہ تعالیٰ قرآنی ہدایت کے ذریعہ قیامت تک لوگوں کی ربوبیت اور تربیت کرنا چاہتا ہے۔چنانچہ قرآنی ہدایت اور اس کے انوار کو دنیا میں پھیلانے کے لئے ان پاک اور مطہر بندوں کا گروہ ہمیں تین روحانی لشکروں میں تقسیم نظر آتا ہے۔ایک وہ اکابر اور آئمہ دین ہیں جنہوں نے قرآن کریم کی تفسیر کو تحریف معنوی سے بچایا لیکن اسلام پر ایک تیسرا حملہ فلسفیوں (اہل عقل ) کی طرف سے ہوا۔اسلام کی تعلیم کے خلاف عقلی دلائل پیش کر کے وہ دنیا کو بہکانے کی کوشش کرتے رہے۔انہوں نے یہ ثابت کرنے کی کوشش کی کہ قرآنی تعلیم اور انسانی عقل میں نعوذ باللہ تضاد پایا جاتا ہے حالانکہ انسانی عقل اللہ تعالیٰ کی مخلوق میں سے ایک خلق ہے اور قرآن کریم اللہ تعالیٰ کا کلام ہے ایک کامل ، اور قیامت تک رہنے والا کلام ہے اس لئے عقل اور کلام الہی کے درمیان تضاد ہو ہی نہیں سکتا۔لیکن لوگوں کی طرف سے ان دونوں کے اندر تضاد ثابت کرنے کی کوشش کی گئی اور بڑی زبر دست کوشش کی گئی۔اس کے متعلق حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے فرمایا :۔تیسرے سمین کے ذریعہ سے جنہوں نے قرآنی تعلیمات کو عقل کے ساتھ تطبیق