خطباتِ ناصر (جلد5 ۔ 1973ء، 1974ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 412 of 836

خطباتِ ناصر (جلد5 ۔ 1973ء، 1974ء) — Page 412

خطبات ناصر جلد پنجم ۴۱۲ خطبہ جمعہ ۲۸ /دسمبر ۱۹۷۳ء سامان پیدا کر دیئے ہیں۔اب کوئی شیطانی طاقت یا کوئی منصوبہ قرآن کریم میں تحریف لفظی یا معنوی میں کامیاب نہیں ہوگا۔حضرت نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا وجود مبارک اللہ تعالیٰ کی نگاہ میں اس کا ئنات کا نچوڑ تھا اسی لئے کہا گیا۔لولا لَمَا خَلَقْتُ الْأَفَلَاكَ کہ اے محمد (صلی اللہ علیہ وسلم ) اگر تجھے پیدا نہ کرنا ہوتا۔اگر تیری پیدائش کا الہی منصوبہ نہ ہوتا ، تو اس کائنات کی پیدائش کی ضرورت ہی نہ تھی اس لئے آپ کو ایک کامل شریعت دی گئی۔آپ کو ایک بلند ترین روحانی مقام عطا ہوا۔اللہ تعالیٰ نے آپ کو قیامت تک کے لوگوں کے لئے اسوۂ حسنہ بنا دیا۔اس کائنات کی ہر چیز کو آپ کا خادم بنا دیا۔جہاں تک انسان کی طاقتوں کا تعلق ہے وہ بھی انسان کو اسی لئے عطا کی گئی ہیں کہ ان کے ذریعہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثت کی غرض پوری ہو۔ان قوتوں میں سے ایک قوت ، قوت حافظہ ہے جو انسان میں ودیعت کی گئی ہے۔خود انسان کو اس قوت سے فائدہ اٹھانے کا بھی حکم دیا گیا ہے۔بہت سے لوگ اس سے فائدہ اٹھاتے ہیں۔وہ تعلیم حاصل کرتے ہیں۔مختلف مشاہدے کرتے ہیں اور پھر قوت حافظہ کے ذریعہ اپنے ذہن میں انہیں حاضر رکھتے ہیں۔پس قوتِ حافظہ کے دنیوی لحاظ سے بھی بہت سے فوائد ہیں اور اخلاقی و روحانی لحاظ سے بھی بہت سے فوائد ہیں لیکن قوتِ حافظہ کی اصل غرض یا قوت حافظہ کی پیدائش کا اصل مقصد یہ تھا کہ خدا تعالیٰ قرآنِ عظیم کو تحریف لفظی سے بچائے گویا اللہ تعالیٰ نے انسان کی قوت حافظہ کو قرآنِ کریم کی حفاظت لفظی کے لئے خدمت پر لگا دیا۔گزشتہ چودہ صدیوں میں لاکھوں حفاظ پیدا ہوئے جنہوں نے قرآنِ کریم کو تحریف لفظی سے محفوظ رکھا۔قرآن کریم کے الفاظ میں تحریف کرنے کی کسی کو جرات نہ ہو سکی۔ان لوگوں کو ایسا حافظہ دیا گیا کہ جس کی دوسری قوموں میں مثال نہیں ملتی۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں کہ اس قسم کے حفاظ پیدا ہوتے رہے اور اب بھی پیدا ہورہے ہیں کہ اگر آپ قرآن کریم کا کوئی لفظ ان کے سامنے رکھیں تو وہ اس لفظ یا آیت