خطباتِ ناصر (جلد5 ۔ 1973ء، 1974ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 382 of 836

خطباتِ ناصر (جلد5 ۔ 1973ء، 1974ء) — Page 382

خطبات ناصر جلد پنجم ۳۸۲ خطبه جمعه ۳۰/ نومبر ۱۹۷۳ء ہے۔دنیا میں کوئی شہر محض ماضی کی برکات کے نتیجہ میں اسلام کا مرکز نہیں رہا۔مثلاً ایک وقت میں سپین کا اسلامی مرکز سپین کے علاقے کے لئے مختص ہو کر رہ گیا تھا۔اسلام کے ابتدائی دور میں ہی خود مدینہ خلافت کا مرکز نہیں رہا تھا اس لئے کہ اہل مدینہ کی غفلتوں کے نتیجہ میں ان سے تو وہ برکت چھین لی گئی تھی جو مرکزیت سے تعلق رکھتی ہے مگر مدینہ منورہ اپنی تمام برکتوں کے ساتھ ایک زندہ شہر ہے اور ہمیشہ زندہ رہے گا۔اللہ تعالیٰ کا یہ منشا نہیں ہے کہ کسی شہر کو بت بنایا جائے خدا تعالیٰ تو یہ چاہتا ہے کہ اس کی تو حید دنیا میں قائم ہو اور حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم کے حسن سے دنیا آشنا ہو۔اس لئے جب تک اہلِ ربوہ اپنی ذمہ داریوں کو سمجھتے اور ان کو نباہتے رہیں گے اس وقت تک ربوہ سلسلہ عالیہ احمدیہ کا مرکز بنا رہے گا۔اور اگر خدا نہ کرے وہ ان باتوں کو نظر انداز کر دیں۔ان سے غفلت برتیں۔اپنی ذمہ داریاں نباہنے کے لئے تیار نہ ہوں۔اپنے فرائض سے غافل ہو جائیں تو پھر اللہ تعالیٰ پر ان کا کوئی زور نہیں چلے گا کہ وہ پھر بھی اسی جگہ کے مکینوں کو برکات کا سر چشمہ اور منبع بنائے رکھے۔ہماری اسلامی تاریخ میں اس سے پہلے کئی دفعہ ایسا ہو چکا ہے اس لئے اہل ربوہ کے لئے یہ بڑے خوف کا مقام ہے۔تاہم جہاں تک اس مہم کا تعلق ہے اس کے لئے کوئی خوف کا مقام نہیں ہے۔اس مہم نے اپنی آخری فتح تک آگے سے آگے بڑھتے چلے جانا ہے۔غرض اس نقطہ نگاہ سے اہل ربوہ کو جن ذمہ داریوں کی طرف میں آج توجہ دلانا چاہتا ہوں ان میں پہلی ذمہ داری کا تعلق طہارت ظاہری کا خیال رکھنے سے ہے۔میں اس سے پہلے بھی کئی موقعوں پر احباب ربوہ کو تو جہ دلا چکا ہوں کہ وہ ربوہ کی صفائی کریں بلکہ ربوہ کو دلہن کی طرح سجا دیں اور اب تو یہ اس لئے بھی ضروری ہے کہ پہلی دفعہ بیرونی ملکوں سے بھی خدا اور اس کے رسول کے مہمان آرہے ہیں۔علاوہ ازیں بیرونی ممالک سے آنے والے خدا اور اس کے رسول کے جو مہمان ہوں گے اور دین کی باتیں سننے کے لئے یہاں آئیں گے۔ان کی بعض ایسی ضرورتیں ہیں جو انہیں عادتا لاحق ہیں۔وہ بہر حال پوری ( ہونی چاہئیں مثلاً ایک خاص قسم کے غسل خانے استعمال کرنے کی انہیں عادت ہے جس میں کموڈ اور فلش ہوتا ہے وہ ان کو مہیا ہونا چاہیے۔چونکہ جلسہ سالانہ کے قریب ہی