خطباتِ ناصر (جلد5 ۔ 1973ء، 1974ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 378 of 836

خطباتِ ناصر (جلد5 ۔ 1973ء، 1974ء) — Page 378

خطبات ناصر جلد پنجم ۳۷۸ خطبه جمعه ۳۰/ نومبر ۱۹۷۳ء پہلوں کی پہنچ نہیں تھی۔چونکہ مکہ مکرمہ کا تعلق اِنَّ اَوَلَ بَيْتٍ وُضِعَ لِلنَّاسِ لَلَّذِي بِبَكَةَ مُبْرَكًا وَهُدًى لِلْعَلَمِينَ (ال عمران: ۹۷) کی رو سے تمام پہلی شریعتوں سے ہے اور قرآن کریم کے متعلق آیا ہے کہ پہلے انبیاء پہلی کتب اور پہلی قوموں کو حضرت نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے متعلق جو بشارتیں دی گئی تھیں وہ ان کو پورا کرنے والا ہے ( آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے متعلق ہر نبی کو بتا یا گیا تھا اور آپ کی بشارت دی گئی تھی ) اس لئے گو یا قرآن عظیم ان بشارتوں کا مصدق ہوکر بھیجا گیا ہے۔جہاں تک پہلی بشارتوں کی تصدیق کا تعلق ہے قرآنِ کریم جس امت پر نازل ہوا اور جس کی بدولت عظیم ذمہ داریاں ان پر ڈالی گئیں مکہ مکرمہ اس لحاظ سے ان کے لئے اُم القری بنا اور حضرت نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے چونکہ نوع انسانی کی عام اور وسیع اور کامل ہدایت کے لئے مدینہ کو اپنا مرکز بنایا تھا۔اس لئے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے طفیل مدینہ نوع انسان کے لئے ام القری بن گیا۔چنانچہ مؤطا امام مالک کی ایک حدیث بھی اس طرف اشارہ کرتی ہے جس میں انحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ ارشاد ہے کہ پہلے مکہ کو حرم بنا یا گیا تھا اور اب میرے ذریعہ مدینہ کو حرم بنایا گیا ہے۔پس مکہ مکرمہ اور مدینہ منورہ ہم مسلمانوں کے لئے اُم القری کی حیثیت رکھتے ہیں یعنی یہ وہ مراکز ہیں جن سے دنیا کے سارے شہروں کا تعلق ہے اور جہاں سے دنیا کی رہنمائی کی مہم شروع ہوئی۔ام القری کی یہ اصطلاح ہمیں یہ بھی بتاتی ہے کہ قرآنی ہدایت اور شریعت کو مستحکم کرنے اور اسلام کو پھیلانے کی غرض سے مکہ اور مدینہ کے ماتحت بہت سے اور مراکز بھی بنیں گے۔چنانچہ جب ہم اپنی تاریخ پر نظر ڈالتے ہیں تو ہمیں مختلف اوقات میں مختلف جگہوں پر کئی ایسے مراکز نظر آتے ہیں جن کا تعلق مکہ مکرمہ اور مدینہ منورہ سے ہے مثلاً سپین ہے۔سپین میں اسلامی حکومت کا جو دارالخلافہ تھا (ایک دو جگہ بدلا بھی ہے تاہم ایک وقت میں جو بھی دارالخلافہ تھا ) وہ یورپ میں اسلام کے نور کو پھیلانے اور اسلام کی اشاعت کے لئے مرکز کی حیثیت اختیار کر گیا۔اسی طرح تاشقند وغیرہ علاقوں میں جو مجدد پیدا ہوئے یا افریقہ کے صحراؤں سے تعلق رکھنے والے جو مجددین اور اولیاء اللہ آئے ان کے مرکز خانہ کعبہ ہی کے طفیل اور اس کے ظل کے طور پر اس غرض کے لئے