خطباتِ ناصر (جلد5 ۔ 1973ء، 1974ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 375 of 836

خطباتِ ناصر (جلد5 ۔ 1973ء، 1974ء) — Page 375

خطبات ناصر جلد پنجم ۳۷۵ خطبه جمعه ۲۳ نومبر ۱۹۷۳ء بھی۔دراصل اس کا احسان اس دنیا میں کارفرما ہے باقی تو سارے اس کے ظل ہیں حقیقی احسان اسی کا ہے انسان انسان نے کسی پر کیا احسان کرنا ہے یا کسی جانور نے انسان پر کیا احسان کرنا ہے۔مثلاً گدھا ہے اس نے انسان پر کیا احسان کرنا ہے وہ تو صرف انسان کا سامان ایک جگہ سے دوسری جگہ اٹھا کر ( اللہ تعالیٰ کے حکم سے کہ انسان کی خدمت کر ) لے جاتا ہے۔یہ کوئی احسان تو نہیں۔کوئی نہیں کہہ سکتا کہ دیکھو جی گدھا انسان کا بڑا حسن ہے۔جس عظیم ہستی نے گدھے کو پیدا کیا اس نے اس کی فطرت میں یہ بات رکھ دی کہ وہ انسان کی خدمت کرے اصل احسان خدا کا ہے جس نے کائنات کی ہر چیز کو ہماری خدمت پر لگا دیا ہے۔یہ وہ احسان ہے جسے خدا نے قرآنِ کریم میں بار بار یاد دلایا ہے اور وضاحت سے بیان کیا ہے تا کہ انسان کو اپنے محسن حقیقی سے محبت اور پیار پیدا ہو۔غرض اللہ تعالیٰ نے انسان کو روحانی طور پر جو پہلی قوت عطا فرمائی ہے وہ اپنے خالق و مالک سے خالص محبت کرنے کی قوت ہے اور یہ ایک بنیادی روحانی قوت ہے جس کی نشو ونما ہر احمدی کو اپنے اپنے دائرہ استعداد میں کمال تک پہنچانی چاہیے۔اللہ تعالیٰ ہمیں اس کی توفیق عطا فرمائے۔بقیہ سات بنیادی روحانی قوتوں کا انشاء اللہ آئندہ خطبوں میں ذکر کروں گا۔وَبِاللهِ التَّوْفِيقُ۔روزنامه الفضل ربوه ۱۲ / دسمبر ۱۹۷۳ ء صفحه ۲ تا ۵)