خطباتِ ناصر (جلد5 ۔ 1973ء، 1974ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 363 of 836

خطباتِ ناصر (جلد5 ۔ 1973ء، 1974ء) — Page 363

خطبات ناصر جلد پنجم ۳۶۳ خطبہ جمعہ ۹ نومبر ۱۹۷۳ء زبان کے ماہر چاہئیں۔غرضیکہ ملک ملک کی زبان احمدیوں کو گروپ کے لحاظ سے آنی چاہیے۔ایک گروپ ایسا ہو جو ٹیلین زبان سیکھ رہا ہو ایک ہو جو فرانسیسی زبان سیکھ رہا ہو۔وغیرہ وغیرہ۔پھر افریقہ کی قبائلی زبانیں ہیں۔وہ ان کی نیم قومی زبانیں ہیں۔وہاں شاید ہی کوئی ملک ہو جہاں کی قومی زبان کوئی ایک ہو۔صرف سواحیلی زبان مشرقی افریقہ میں ہے جو زیادہ بولی جاتی ہے۔اللہ تعالیٰ نے بعض ماہر اس زبان کے دے دیئے تھے۔اور قرآن کریم کا ترجمہ ہو گیا۔ہمارے یہاں خود پاکستان میں سندھی میں تفسیر صغیر کا ترجمہ نہیں ہو سکا۔اب میں نے ایک دوست کو لگا یا ہے۔ان کو میں نے تاکید کی ہے کہ ایک سال کے اندر اندر مجھے دس پاروں کا ترجمہ دو تا کہ پہلی جلد ہم سندھی میں شائع کرسکیں اور پھر اس کے بعد ہر سال ایک ایک جلد شائع ہو اور تین سال بعد یہ مکمل ہو جائے۔پھر اکٹھا شائع کریں۔پھر اس کے اوپر تنقید ہوگی۔تبصرے ہوں گے کچھ غلط تبصرے ہوں گے اور کچھ صحیح۔اس کے نتیجہ میں اگر زبان کا کوئی محاورہ غلط استعمال ہو گیا ہو تو اس کی تصحیح کرنی پڑے گی۔لیکن اب سندھی میں بھی گجراتی زبان جو بمبئی وغیرہ میں بولی جاتی ہے اور سندھ یہ کسی زمانہ میں ایک ہی صوبہ رہا ہے۔کراچی میں اور حیدر آباد میں اور سندھ کے مختلف علاقوں میں نیز دوسرے بہت سے مسلمان گجراتی بولنے والے ہیں اور مطالبہ تو بہر حال میرے پاس آنا ہے وہ آجاتا ہے کہ ہم نے فلاں جگہ تبلیغ کی وہ کہتے ہیں کہ گجراتی زبان میں لٹریچر دو۔اب اگر آپ گجراتی نہیں پڑھیں گے اور اس کے ماہر نہیں بنیں گے تو میں گجراتی زبان میں کہاں سے لٹریچر مہیا کروں گا۔بہر حال یہ کام تو انسانوں نے کرنا ہے۔آسمان سے فرشتوں نے آکر زبانوں میں تراجم نہیں کرنے۔یہ ہماری ذمہ داری ہے۔ان تراجم کے نتیجہ میں دنیا میں اثر پیدا کرنا یہ فرشتوں کی ذمہ داری ہے۔لیکن تراجم کرنا یہ ہماری ذمہ داری ہے کام بٹا ہوا ہے۔تقسیم کا ر ہے۔جو ہمارا کام ہے وہ ہم نے کرنا ہے کسی اور نے نہیں کرنا۔ملائکہ نے بھی نہیں کرنا۔جو ملائکہ کا کام ہے وہ ہم کر ہی نہیں سکتے۔ڈاکٹر بھیجنا ہمارا کام تھا۔وہ ہم نے بھیج دیئے۔نسخہ لکھنا ڈاکٹر کا کام تھا وہ نسخہ لکھ دیتا ہے شفا دینا اللہ تعالیٰ کا کام ہے۔آسمانوں سے فرشتے آئے اور انہوں نے ہمارے ان ڈاکٹروں کے ہاتھ میں جو نصرت جہاں سکیم کے ماتحت باہر گئے تھے شفا رکھ دی اور ان کے علاج