خطباتِ ناصر (جلد5 ۔ 1973ء، 1974ء) — Page 18
خطبات ناصر جلد پنجم ۱۸ خطبہ جمعہ ۱۹ / جنوری ۱۹۷۳ء جو تمہاری قیادت ہے اس کے نتیجہ میں جو ظلم اور حق تلفی ہورہی ہے اس کو دیکھو۔یہ تو اندھیرا ہے پس تمہارے سائے میں اندھیرا ہے اور میرے وجود میں روشنی ہے۔بہر حال حضرت ابراہیم علیہ السلام نے فرمایا کہ میرا رب مشرق سے سورج نکالتا ہے تو مغرب سے نکال دے یعنی حضرت ابراہیم علیہ السلام نے یہ کہا کہ میرا وجود محبط انوار الہی ہے اور میرے وجود سے انوار روحانی کا انتشار ہوگا۔اس زمانہ اور اس علاقہ کے لئے خدا تعالیٰ نے ایک سورج کو پیدا کیا ہے جس کے نتیجہ میں اندھیروں کو دور کیا جائے گا۔تم اندھیروں میں ہوا گر تم خدا پر ایمان نہیں لاتے اور اس کی ربوبیت کی معرفت نہیں رکھتے اور خود کو خدا کا قائمقام سمجھتے ہو اور عملاً انا ربکم الاعلی کا نعرہ لگاتے ہو اور اس قسم کی تمہاری ذہنیت ہے تو سورج کو مشرق کی بجائے مغرب سے نکال کر دکھاؤ یعنی اپنے وجود کو جو شیطانی ظلمات کا گھر ہے، انوار الہی کا سر چشمہ دکھاؤ۔”رب“ کے متعلق مخاصم مخالف نے حضرت ابراہیم علیہ السلام سے جو بحث کی کہ خدا تعالیٰ کی ربوبیتکوئی چیز نہیں ہے اور نہ اس کی ہمیں ضرورت ہے۔ہم سب کچھ خود حاصل کرتے ہیں؟ اس کے جواب میں فرمایا کہ پھر ایسے روحانی نور سے ظلمات شیطانی دور کر کے دکھلاؤ اس طرح اُسے سمجھایا کہ یہ فیصلہ کرنا حاکم وقت یا حکومت وقت کا کام نہیں کہ کون شخص اللہ تعالیٰ کا مقترب ہے اور کون نہیں کیونکہ مشرق یا روشنی کا منبع یعنی جہاں سے وہ روشنی پھوٹتی ہے اللہ تعالیٰ کے نور کے جلوے کی جگہ ہے یعنی تجلی گاہ نو ر الہی ہے پس یہ فیصلہ کرنا کہ یہاں اللہ کے نور کی تجلی ہوگی اور یہاں نہیں ہوگی یہ کسی حاکم وقت یا حکومت یا ساری دنیا کی حکومتوں کا کام نہیں نہ حاکم وقت کا یہ کام ہے کہ جنت کے ٹکٹ ایشو (Issue ) کرنا شروع کر دے اور نہ یہ کام ہے کہ دوزخ کے ٹکٹ ایشو کرنا شروع کر دے۔ان کا جو کام ہے وہ یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے جو طاقتیں دی ہیں اور ان کے استعمال کے لئے اس نے جو اصول بنائے ہیں۔ان اصول کے مطابق اپنی طاقت کو استعمال کیا جائے اور اپنے اختیارات کے دائرہ سے باہر نکلنے کی کوشش نہ کی جائے۔الہی اصولوں سے انحراف شیطان کا کام ہے، انسان کا کام نہیں۔غرض اس آیت میں بڑے بنیادی اصول اور حقائق حیات اجتماعی کو بڑے حسین پیرا یہ میں