خطباتِ ناصر (جلد5 ۔ 1973ء، 1974ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 17 of 836

خطباتِ ناصر (جلد5 ۔ 1973ء، 1974ء) — Page 17

خطبات ناصر جلد پنجم ۱۷ خطبہ جمعہ ۱۹ / جنوری ۱۹۷۳ء یہ لوگ بعض لحاظ سے بڑے عقلمند سمجھے جاتے ہیں۔سائنس میں انہوں نے بڑی ترقی کی۔( مثلاً روس ہے۔لیکن اُنہوں نے بھی وہی بات کی جو حضرت ابراہیم علیہ السلام کے مقابلہ میں بادشاہ نے کی کہ ہم زمین سے خدا کے نام اور آسمانوں سے خدا کے وجود کوختم کر دیں گے یعنی خود خدا بن گئے۔زندگی اور موت کا حق اپنے ہاتھ میں لے لیا لیکن روس کے سارے سائنسدان یا اگر اس قسم کی کچھ اور دہر یہ حکومتیں ہیں ان کے سارے سائنسدان مل کر بھی خدا تعالیٰ کے بنائے ہوئے اصولوں کے خلاف کسی انسان کو پیدا نہیں کر سکتے اور نہ وہ خدا تعالیٰ کے قائم کردہ اصولوں کے خلاف چل کر کسی سے زندگی کی علامات چھین سکتے ہیں یعنی حقائق زندگی کو کوئی نہیں چھین سکتا لیکن جب ان کو طاقت ملی اور انہیں خدا تعالیٰ نے ملک دیا تو انہوں نے خدائی کا دعوی کر دیا اور روس کو تو میں کہوں گا کہ جب میں کہتا ہوں کہ تمہیں خدا تعالیٰ نے ملک دیا تو میرے پاس اس کی ایک زبر دست دلیل ہے۔جس کا تم انکار نہیں کر سکتے۔وہ یہ کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو اللہ تعالیٰ نے لینن کے اپنے ساتھیوں کے ساتھ مل کر یہ مشورہ کرنے سے بھی پہلے کہ ہم روس میں ایک انقلابی حکومت قائم کریں، زار روس کی تباہی اور ایک انقلابی حکومت کے قیام کی خبر دی تھی پس خود تمہارا وجود بھی خدا تعالیٰ کی ایک مصلحت کے نتیجہ میں ہے۔حضرت ابراہیم علیہ السلام کے زمانہ کے بادشاہ نے بھی آپ سے کہا کہ میں زندہ کرتا اور مارتا ہوں اس لئے کسی بالا ہستی کی ضرورت نہیں اور اب جن کو حکومت ملی ہے وہ بھی اس قسم کی باتیں کرتے ہیں گویا کہتے ہیں کہ میں زندہ کرتا اور مارتا ہوں کیونکہ وہ دراصل زندگی اور موت کا فلسفہ نہیں سمجھے (جسمانی زندگی اور موت اور روحانی زندگی اور موت دونوں پر ہی یہ آیہ کریمہ روشنی ڈالتی ہے ) اور اس روحانی زندگی کو زیادہ نمایاں کرنے کے لئے حضرت ابراہیم علیہ السلام نے کہا دیکھو! روشنی وہاں ہوتی ہے جہاں اللہ تعالیٰ کے نور کا جلوہ ظاہر ہوتا ہے۔پس سورج روحانی طور پر بھی اور جسمانی طور پر بھی اللہ تعالیٰ ہی نکالتا ہے۔فرمایا:۔کہ دیکھو روحانی طور پر اندھیرے وہیں دُور ہوتے ہیں جہاں خدا تعالیٰ کی نورانی روحانی تحلیلی ہو۔تم روحانی طور پر اندھیروں میں ہو۔اپنے اخلاق کو دیکھو، اپنی حالت کو دیکھو اور