خطباتِ ناصر (جلد5 ۔ 1973ء، 1974ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 345 of 836

خطباتِ ناصر (جلد5 ۔ 1973ء، 1974ء) — Page 345

خطبات ناصر جلد پنجم ۳۴۵ خطبہ جمعہ ۲ نومبر ۱۹۷۳ء کو قرآن کریم کے انوار کے نیچے چلنے کی ہمیشہ حاجت رہی ہے اور جب کبھی کسی حالت جدیدہ زمانہ نے اسلام کو کسی دوسرے مذہب کے ساتھ ٹکرا دیا ہے تو وہ تیز اور کارگر ہتھیار جو فی الفور کام آیا ہے قرآنِ کریم ہی ہے۔ایسا ہی جب کہیں فلسفی خیالات مخالفانہ طور پر شائع ہوتے رہے تو اس خبیث پورہ کی بیخ کنی آخر قرآن کریم ہی نے کی اور ایسا اس کو حقیر اور ذلیل کر کے دکھلا دیا کہ ناظرین کے آگے آئینہ رکھ دیا کہ سچا فلسفہ یہ ہے نہ وہ۔حال کے زمانہ میں بھی جب اول عیسائی واعظوں نے سراٹھایا اور بد فہم اور نادان لوگوں کو تو حید سے کھینچ کر ایک عاجز بندہ کا پرستار بنانا چاہا اور اپنے مغشوش طریق کو سوفسطائی تقریروں سے آراستہ کر کے ان کے آگے رکھ دیا اور ایک طوفان ملک ہند میں برپا کر دیا۔آخر قرآنِ کریم ہی تھا جس نے انہیں پسپا کیا کہ اب وہ لوگ کسی با خبر آدمی کومنہ بھی نہیں دکھلا سکتے اور ان کے لمبے چوڑے عذرات کو یوں الگ کر کے رکھ دیا جس طرح کوئی کاغذ کا تختہ لپیٹے۔پھر آپ فرماتے ہیں :۔وو جانا چاہیے کہ کھلا کھلا اعجاز قرآن شریف کا جو ہر ایک قوم اور ہر یک اہلِ زبان پر روشن ہوسکتا ہے جس کو پیش کر کے ہم ہر یک ملک کے آدمی کو خواہ ہندی ہو یا پارسی یا یوروپین یا امریکن یا کسی اور ملک کا ہوملزم و ساکت ولا جواب کر سکتے ہیں۔وہ غیر محدود معارف و حقائق و علوم حکمیہ قرآنیہ ہیں جو ہر زمانہ میں اس زمانہ کی حاجت کے موافق کھلتے جاتے ہیں اور ہر یک زمانہ کے خیالات کو مقابلہ کرنے کے لئے مسلح سپاہیوں کی طرح کھڑے ہیں۔”اے بندگانِ خدا! یقیناً یا درکھو کہ قرآن شریف میں غیر محدود معارف و حقائق کا اعجاز ایسا کامل اعجاز ہے جس نے ہر ایک زمانہ میں تلوار سے زیادہ کام کیا ہے اور ہر یک زمانہ اپنی نئی حالت کے ساتھ جو کچھ شبہات پیش کرتا ہے یا جس قسم کے اعلیٰ معارف کا دعویٰ کرتا ہے اس کی پوری مدافعت اور پورا الزام اور پورا پورا مقابلہ قرآن شریف میں موجود ہے۔قرآن شریف کے عجائبات کبھی ختم نہیں ہو سکتے اور جس طرح صحیفہ فطرت کے عجائب وغرائب خواص کسی پہلے