خطباتِ ناصر (جلد5 ۔ 1973ء، 1974ء) — Page 339
خطبات ناصر جلد پنجم ۳۳۹ خطبہ جمعہ ۲ نومبر ۱۹۷۳ء حیثیت سے بحیثیت مجموعی ایک جہت کی طرف حرکت کر رہا ہے اس طرح کی بے شمار کہکشائیں پائی جاتی ہیں۔ایک بڑا یونٹ میں نے لے لیا ہے۔ہمارے علم کے مطابق خدا تعالیٰ کی صنعت کا ایک بہت بڑا وجود کہکشاں کی صورت میں ہے اس کو لیں یا کیڑے کے ایک پاؤں کو لیں جو ایک چھوٹی سی چیز ہے۔خدا کی مخلوق میں سے بڑی سے بڑی چیز لیں یا بظا ہر چھوٹی سے چھوٹی چیز لیں۔کسی کو بھی لیں جو چیز خدا تعالیٰ کے دست قدرت سے وجود پذیر ہوئی ہے اس کے اندر غیر محدودصفات پائی جاتی ہیں۔یہ ایک حقیقت ہے اور آج کا انسان یہ مانے پر مجبور ہے کہ خدا تعالیٰ کی خلق اور صنعت میں غیر محدود صفات پائی جاتی ہیں مثلاً میں جب اس دورہ میں تھا تو ایک دن مجھے ڈاکٹر سلام صاحب کہنے لگے کہ اس وقت تک ساری دنیا اس بات پر متفق تھی کہ اس عالمین (Universe) کی بعض چیزوں میں صرف ایک اصول چلتا ہے۔انہوں نے کہا کہ اللہ تعالیٰ نے مجھے یہ توفیق دی ہے اور میں ایک نئے نظریہ (Theory) پر عمل کر رہا ہوں جو اس اصول کو غلط قراردے دے۔پس سائنسدان آج ایک چیز پر اکٹھے ہو کر کہتے ہیں کہ بس یہی حقیقت ہے اور کل اللہ تعالیٰ اپنے فضل سے اپنے کسی بندہ کو اس چیز کی کسی اور صفت کی طرف متوجہ کر دیتا ہے اور انسان کو پتہ لگتا ہے کہ انسان کی عقل ناقص کا یہ دعویٰ کہ کامل قدرت کے ہاتھ نے جو پیدا کیا میں نے اس کی تمام صفات کا احاطہ کر لیا ہے یہ بیوقوفی ہے۔تو جب ایک مکھی یا ایک کیڑے کے پاؤں میں پائی جانے والی صفات کا انسان احاطہ نہیں کر سکتا تو اس کے ساتھ ہی کسی مسلمان کا یہ کہہ دینا کہ خدا تعالیٰ کا جو کلام ہے اس کے بطون کا ہم احاطہ کر سکتے ہیں اس سے زیادہ حماقت کی ہمارے نزدیک کوئی بات نہیں۔جس طرح خدا تعالیٰ کی خلق میں ہر چیز کی صفات غیر محدود ہیں اسی طرح قرآنِ کریم جس نے قیامت تک نوع انسانی کا رہبر بنتا ہے اس کے معانی بھی غیر محدود بطون واسرار کے حامل ہیں۔ایک تیسری بات ہمیں کتاب مکنون کے مضمون سے یہ پتہ لگی کہ اگر ہم قرآن عظیم کو کتاب مکنون تسلیم نہ کریں اور یہ سمجھیں کہ اس میں جو کچھ علم تھا اور معارف جو اس میں تھے اور حقائق جو اس میں تھے اور رموز و اسرار روحانی جو اس میں تھے وہ سارے کے سارے پہلوں کے علم میں آگئے اور آگے کوئی نئی چیز باقی نہیں رہی تو ہمارا یہ تسلیم کرنا اس اعلان کے مترادف ہوگا کہ ہم قرآنِ عظیم کو