خطباتِ ناصر (جلد5 ۔ 1973ء، 1974ء) — Page 326
خطبات ناصر جلد پنجم ۳۲۶ خطبه جمعه ۲۶/اکتوبر ۱۹۷۳ء پر اپنی اپنی قوت اور استعداد کے مطابق عبور حاصل کریں اور جو لوگ قرآن کریم کی عظمت سے ناواقف اور جاہل ہیں اُن تک قرآنی علوم پہنچائیں کیونکہ اس کو حضرت نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اُمت مسلمہ کے خیر ہونے کی ایک علامت قرار دیا ہے۔خود قرآنِ کریم نے بھی اس کو خیر کے لفظ سے یاد کیا ہے لیکن یہ ایک بڑی لمبی تفصیل ہے اگر زندگی رہی اور توفیق ملی تو انشاء اللہ اگلے جمعہ کے خطبہ میں بیان کروں گا۔جیسا کہ میں بتا چکا ہوں قرآنِ کریم کا ایک دوسرا رُخ ہے۔اس کا ایک دوسرا پہلو ہے اور وہ ہے کہ اس کا کتاب مکنون ہونا۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے یہ ایک عظیم کتاب ہے۔یہ کتاب بڑی عظمتوں والی ہے اس لئے کہ اس کا ایک پہلو ظاہر ہے یعنی کتاب مبین پر مشتمل ہے اور اس کا ایک پہلو چھپا ہوا ہے یعنی کتاب مکنون سے تعلق رکھتا ہے چنانچہ اس کے اس چھپے ہوئے پہلو کے متعلق اللہ تعالیٰ فرماتا ہے : - لا يَمَسُّةٌ إِلَّا الْمُطَهَّرُونَ (الواقعة : ٨٠) یعنی کسی معاند مستشرق کو اس کا علم حاصل نہیں ہوسکتا اور نہ اُس مسلمان کو حاصل ہو سکتا ہے جسے روحانیت میں ایک خاص اور ارفع مقام حاصل نہ ہو۔گویا اس حصہ کا علم حاصل کرنے کے لئے لا يَمَسُّةٌ إِلَّا الْمُطَهَّرُونَ کی رو سے خدا تعالیٰ کی نگاہ میں ( بندوں کی نگاہ میں نہیں ) مطہر ہونا لازمی ہے۔چنانچہ جب خدا تعالیٰ کی نگاہ میں اس کا کوئی بندہ مظہر ہو کر اس کا محبوب بن جاتا ہے اور اس کے پیار کو حاصل کر لیتا ہے تو خدا تعالیٰ اس کتاب مکنون کے اوراق یا اس کے چھپے ہوئے پہلوؤں کو اس کے سامنے رکھتا ہے اور کہتا ہے آج دنیا کی یہ ضرورتیں ہیں اور اس کے یہ مسائل ہیں۔اُن کو حل کرنے کے لئے قرآن کریم نے یہ تعلیم دی ہے تم اس کو سیکھو اور پھر دنیا کو سکھا ؤ اور پیش آمدہ مسائل کو حل کرو۔قرآنِ کریم کا ایک ہی وقت میں کتاب مبین اور کتاب مکنون ہونے کا دعویٰ کرنا بظاہر یہ باتیں متضا لگتی ہیں لیکن در حقیقت یہ متضاد نہیں ہیں۔میں نے اپنوں اور غیروں کے سامنے اس مضمون کو بیان کیا ہے۔لاریب یہ مضمون انسان کو حیرت میں ڈالتا ہے۔اللہ تعالیٰ قرآن کریم میں فرماتا ہے یہ کتاب تَنْزِيلٌ مِنْ رَبِّ الْعَلَمِينَ (الواقعة : ۸۱) ہے۔یہ کتاب رَبُّ الْعَلَمِینَ کی طرف سے نازل ہوئی ہے یعنی اس ہستی کی طرف سے نازل کی گئی ہے جس نے حضرت محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی