خطباتِ ناصر (جلد5 ۔ 1973ء، 1974ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 319 of 836

خطباتِ ناصر (جلد5 ۔ 1973ء، 1974ء) — Page 319

خطبات ناصر جلد پنجم ۳۱۹ خطبه جمعه ۲۶/اکتوبر ۱۹۷۳ء کے رونگٹے کھڑے ہو جاتے ہیں۔جس چیز سے اتنی شدت کے ساتھ روکا گیا تھا اور جو اُمت مسلمہ کی ایک بنیادی علامت قرار دی گئی تھی اُسے ہم بھول گئے ہیں اور اب نہ صرف یہ کہ آج ہم اپنے پاؤں پر کھڑے نہیں رہے بلکہ یہ ایک حقیقت ہے اور اس سے انکار نہیں کیا جا سکتا کہ ہم دوسروں کے دست نگر بن گئے ہیں۔پچھلے ۲۵ سال (یعنی پاکستان کی زندگی کی ابتدا) سے ہم نے اپنے پاؤں پر کھڑے ہونے کی کوشش ہی نہیں کی۔ہمارے بعد ایک نیا ملک دنیا میں اُبھرا۔ہم یوں بھی کہہ سکتے ہیں کہ سیاسی لحاظ سے ایک نیا بچہ پیدا ہوا جو پاکستان سے دو سال چھوٹا ہے، چین اس کا نام ہے غیر مسلم ہے۔دہر یہ ہے اللہ تعالیٰ پر ایمان نہیں لاتا اس لحاظ سے قابل رحم ہے لیکن وہ اس بنیادی حقیقت سے واقف ہے اور انتہائی قابل تعریف صفت اس میں پائی جاتی ہے اور وہ یہ کہ اُس نے کہیں سے بھی مدد نہیں لینی بلکہ اپنی مدد آپ کر کے اپنے پاؤں پر کھڑا ہونا ہے۔چنانچہ اب اُن کی یہ حالت ہے کہ نہ صرف بحیثیت قوم بلکہ انفرادی طور پر بھی عوام میں یہ جذ بہ پیدا کر دیا گیا ہے کہ کسی سے مدد نہیں لینی۔اگر چہ چین کا نام اس وقت بہت اونچا ہو گیا ہے لیکن آج بھی وہاں علاقوں کے علاقے ایسے ہیں جہاں کے باشندوں کو پیٹ بھر کر روٹی بھی نہیں ملتی۔بایں ہمہ اُن کی عزت نفس کا یہ حال ہے کہ وہ اپنی حکومت سے بھی قرض لینے کے روادار نہیں۔ایسی صورت میں وہ اس عزم کا اظہار کرتے ہیں کہ جس وقت تک وہ اپنے پاؤں پر کھڑے نہیں ہو جاتے اور اپنے لئے اپنی ضرورتوں کے مطابق پیدا نہیں کر لیتے اس وقت تک خواہ اُنہیں بھوکا کیوں نہ رہنا پڑے وہ ہر دُکھ اور مصیبت اُٹھا ئیں گے مگر کسی سے قرض نہیں مانگیں گے لیکن ہماری یہ حالت ہے کہ ہم جہاں تھے اب بھی وہیں ہیں۔ہماری طرف سے اس قسم کی کوئی کوشش ہی نہیں ہوئی۔اب پی پی پی پاکستان پیپلز پارٹی) کی نئی حکومت کوشش کر رہی ہے۔خدا کرے کہ انہیں صحیح راہوں کی نشاندہی ہو جائے اور وہ ترقی کر سکیں لیکن دنیا کی باتیں تو دنیا کی باتیں ہیں، میں اس وقت قرآنِ کریم کی بات کر رہا ہوں۔قرآن کریم ہمیں بتاتا ہے کہ خیر امت وہ اُمت ہے جس کے اندر یہ بنیادی صفت پائی جاتی ہو کہ اُس کا ہاتھ اللہ کے سوا کسی اور کے سامنے نہ پھیلے۔پس وہ وجود، وہ گروہ ، وہ جماعت ، وہ قوم