خطباتِ ناصر (جلد5 ۔ 1973ء، 1974ء) — Page 318
خطبات ناصر جلد پنجم ۳۱۸ خطبه جمعه ۲۶/اکتوبر ۱۹۷۳ء حالات میں انتہائی مجبوری کے حالات میں بھی اُمت مسلمہ ( گو اس وقت تھوڑی سی جماعت تھی، مسلمانوں کا ایک چھوٹا سا گروہ تھا اس میں شک نہیں لیکن اس میں بھی شک نہیں کہ اُن ) کا ہاتھ غیر کے سامنے نہیں پھیلا۔مسلمان اڑھائی سال تک شعب ابی طالب میں محصور ومقید رہے۔اللہ تعالیٰ نے اُن کے لئے ایسے سامان پیدا کر دیئے کہ اُن کا ہاتھ غیر کے سامنے نہیں پھیلا حالانکہ اس قسم کے حالات میں عام دنیوی نگاہ رکھنے والے اور خدا پر توکل نہ رکھنے والے لوگوں کا ہاتھ یقینی طور پر دوسرے کے سامنے پھیلے بغیر رہ ہی نہیں سکتا۔اس کے بعد مسلمانوں نے نہ صرف مال و دولت میں ترقی کی اور دنیا کو مالا مال کیا بلکہ اپنے علم وفضل سے بھی دنیا کو مستفید کیا۔چنانچہ ایک لمبے عرصہ تک علم لینے کے لئے علم کے حصول کے لئے بڑے بڑے مشہور پادری تک مسلمانوں کی درس گاہوں میں آتے تھے۔اب ظاہر ہے جو علم دینے والا ہاتھ ہے وہ الید العلیا ہے اور جو علم لینے والا اور علم حاصل کرنے والا ہاتھ ہے وہ الْيَدُ السُّفلی ہے۔غرض ایک وقت تک زندگی کے ہر میدان میں دُنیوی لحاظ سے بھی اور دینی لحاظ سے بھی، اقتصادی لحاظ سے بھی اور معاشرتی لحاظ سے بھی نئی نئی ایجادات کے لحاظ سے بھی اور نئی نئی ایجادات سے فوائد کے حصول کے لحاظ سے بھی غرض ہر نقطۂ نگاہ سے ہمیں مسلمانوں کا ہاتھ بالا نظر آتا ہے۔اور ظاہر ہے کہ جب تک مسلمانوں کا ہاتھ بالا رہے اُسی وقت تک مسلمان حقیقی معنی میں خیر امت کہلائے جا سکتے ہیں ورنہ وہ خیر امت کی ایک بنیادی صفت سے محروم سمجھے جائیں گے۔پس چونکہ خیر امت کی ایک بنیادی صفت اليد العلیا کا ہونا ہے اور یہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے کہ الیدُ العلیا خیر ہے۔اس لئے اس خیر کے ساتھ اس خیر (اُمت) کا تعلق بتا دیا۔دونوں چیزوں کو آپس میں چسپاں کر دیا لیکن اس وقت بعض مسلمانوں کی دنیا بدل گئی ہے۔اب ہمیں جو نظارہ دکھائی دیتا ہے وہ بڑا تکلیف دہ ہے مثلاً پاکستان کو لے لیں۔غیر ملکی امداد پر اتنا انحصار ہے کہ جب ہم اس کے متعلق سوچتے ہیں اور قرآن کریم پر غور کرتے ہیں اور خیر امت کی صفات ( جیسا کہ قرآنِ کریم و حدیث میں بیان ہوئی ہیں اُن ) کو سامنے رکھتے ہیں تو ہمارے جسم