خطباتِ ناصر (جلد5 ۔ 1973ء، 1974ء) — Page 317
خطبات ناصر جلد پنجم ۳۱۷ خطبه جمعه ۲۶/اکتوبر ۱۹۷۳ء کو بروئے کارلا کر اپنے پاؤں پر کھڑے ہونے والے بہنیں۔نہ صرف ہم اپنی ضرورتوں کو پورا کرنے والے ہوں بلکہ ہم دنیا جہاں کی ضرورتوں کو پورا کرنے والے بھی ہوں نہ صرف یہ کہ ہم خود دوسروں کے سامنے مدد کے لئے ہاتھ نہ پھیلا ئیں بلکہ جب ہمارے سامنے دنیا جہاں کے ہاتھ لمبے ہوں اور ہمارے سامنے امداد کے لئے ہاتھ پھیلائے جائیں تو ہم اُن کے ہاتھوں کو ان کی وسعت سے زیادہ بھر دینے والے ہوں۔چنانچہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی ایک حدیث ہے جس کے دو حصے ہیں۔ایک حصے کا تعلق اُمت کے اندر باہمی معاونت کرنے سے ہے اور دوسرے کا تعلق مسلم و غیر مسلم سب کے ساتھ بھلائی کرنے سے ہے۔آپ نے فرما یا اليَدُ الْعُليَا خَيْرٌ مِنَ الْيَدِ السُّفلی گویا اس میں لفظ بھی اس حقیقت کی طرف توجہ دلائی گئی ہے جو خیر امت میں پنہاں ہے یعنی اُمت مسلمہ کا ہاتھ ، مومنوں کے گروہ کا ہاتھ ہمیشہ علیا یعنی بالا رہنا چاہیے۔اُن کا ہاتھ دینے والا ہونا چاہیے سفلی یعنی لینے والا نہیں ہونا چاہیے۔جب ہم اپنی تاریخ یعنی اُمت مسلمہ کی تاریخ پر نگاہ ڈالتے ہیں تو ہمیں حضرت نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثت سے لے کر اس وقت تک دوزمانے نظر آتے ہیں۔ایک زمانہ تو وہ ہے جس میں خیر امت کی یہ حقیقت بڑی نمایاں ہو کر ہمارے سامنے آتی ہے کہ اُن کا ہاتھ الْيَدُ الْعُلیا ہے اليد السفلی نہیں ہے۔پھر ایک وہ زمانہ ہے جس میں ہمیں یہ نظر آتا ہے کہ اس بنیادی حقیقت پر عمل پیرا رہنے میں کچھ فرق پڑ گیا۔وہ ہاتھ جو ہمیشہ دینے کے لئے پیدا کیا گیا تھا وہ اپنی کوتاہیوں کی وجہ سے دوسروں کے سامنے لینے کے لئے پھیلنے لگا حالانکہ ایک حقیقی مسلمان کا ہاتھ اللہ تعالیٰ کے سوا کسی اور کے سامنے پھیل ہی نہیں سکتا اور نہ توحید کیا ہوئی اور اللہ تعالیٰ پر ایمان کے کیا معنی رہے۔اسلام کے بالکل ابتدائی دور میں ایک وہ وقت تھا کہ قریباً سارے مسلمانوں کو (شاید ہی کوئی مسلمان چھپا ہوا باہر رہ گیا ہو ) شعب ابی طالب میں محصور کر دیا گیا اور قریباً اڑھائی سال تک قید میں رکھ کر مسلمانوں کو بھوکا مارنے کی کوشش کی گئی لیکن تاریخ ہمیں بتاتی ہے کہ ان دُکھ وہ