خطباتِ ناصر (جلد5 ۔ 1973ء، 1974ء) — Page 296
خطبات ناصر جلد پنجم ۲۹۶ خطبه جمعه ۱۹ اکتوبر ۱۹۷۳ء دے رہے تھے۔پھر ۱۹۴۴ء میں پہلی بار بیرونِ ملک کی جماعتوں کی مالی قربانیاں بجٹ کے ذریعہ نمایاں ہو کر جماعت کے سامنے آنی شروع ہو ئیں اور ہر سال ترقی کرتی چلی گئیں یہاں تک کہ میرا خیال ہے کہ اگر اس وقت ہر قسم کی مالی قربانیوں کو اکٹھا کیا جائے تو پاکستان کے مقابلہ میں اب متحدہ ہندوستان تو نہیں رہا جس کی ہم بات کریں۔اب تو ہمارا مرکز پاکستان میں ہے اس لئے ہم پاکستان کی بات کریں گے ) کہ تحریک جدید کی ۵۰ فیصد سے زیادہ مالی قربانیاں بیرونِ پاکستان کی جماعتیں دے رہی ہیں۔گویا بڑی وسعت پیدا ہوگئی ہے اور اس وقت میں اسی وسعت کی بات کر رہا ہوں مالی قربانیوں کی تفصیل میں نہیں جانا چاہتا صرف اس وسعت کو بتانے کے لئے میں نے مالی قربانیوں کا ذکر کیا ہے۔چنانچہ نائیجیریا جو ایک بہت بڑا ملک ہے وہاں بڑی بڑی جماعتیں قائم ہو چکی ہیں اور وہاں بڑے بڑے افسر حتی کہ صوبوں کے وزراء تک احمدی ہیں اور بڑا اخلاص رکھتے ہیں۔وہاں یہ حالت نہیں ہے کہ اکا دُکا خاندان احمدی ہو مثلاً کچھ عرصہ ہوا ہمیں پتہ لگا کہ سوڈان میں ایک خاندان احمدی ہے لیکن وہاں ابھی جماعت نہیں بنی لیکن نائیجیریا میں بڑی بڑی جماعتیں ہیں اور سارے ملک میں پھیلی ہوئی ہیں۔پھر غانا ہے جہاں کی ۳۰ لاکھ کی آبادی میں سے تین لاکھ سے زائد احمدی بالغ مرد اور عورتیں ہیں بچے ان کے علاوہ ہیں۔یہ بھی ایک بہت بڑی جماعت ہے جو ملک کے مختلف حصوں میں پھیلی ہوئی ہے۔اسی طرح سیرالیون ہے جہاں بہت بڑی جماعتیں ہیں۔پھر افریقہ کے دوسرے ممالک ہیں جہاں نائیجیریا اور غانا کی طرح بڑی بڑی جماعتیں تو نہیں لیکن وہاں بڑی تیزی کے ساتھ جماعت احمدیہ کو کامیابیاں حاصل ہو رہی ہیں۔وہاں کے لوگوں میں بڑی شدت کے ساتھ یہ احساس پیدا ہو رہا ہے کہ اگر ہم نے حضرت محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بشارات میں حصہ دار بننا ہے تو ہمیں جماعت احمد یہ میں شامل ہو جانا چاہیے۔اسی طرح انگلستان ہے۔اس میں بھی خدا کے فضل سے بہت بڑی جماعت ہے گو تعداد کے لحاظ سے اتنی بڑی تو نہیں جتنی افریقہ کی جماعتیں ہیں لیکن اپنی کارکردگی کے لحاظ سے بڑی جماعتوں میں شمار ہو سکتی ہے۔جماعتہائے احمد یہ انگلستان نے نصرت جہاں ریزروفنڈ کے لئے