خطباتِ ناصر (جلد5 ۔ 1973ء، 1974ء) — Page 271
خطبات ناصر جلد پنجم نصیحتیں کیں۔۲۷۱ خطبه جمعه ۲۸ ستمبر ۱۹۷۳ء پھر آخری جمعہ میں میں نے خلاصہ بیان کیا کہ میں نے تمہیں یہ یہ خبریں بتائی ہیں کچھ تمہارے نفوس کی طہارت کے لئے اور کچھ اپنے نفس کی طہارت کے لیے۔ایک بات آپ کو بھی بتا دیتا ہوں حضرت نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے کہ اسلام کی ساری جنگیں صرف امام کو ڈھال بنا کر لڑی جاسکتی ہیں فرمایا " الْاِمَامُ جُنَّةٌ يُقَاتَلُ مِنْ وَرَائِهِ “ اس حدیث کی اور بھی بہت سی تشریحیں کی جاسکتی ہیں لیکن اس میں ایک بڑا ہی پیارا مفہوم جوادا ہوا ہے وہ یہ ہے کہ اسلام کی ساری جنگیں صرف امام کی ڈھال کے پیچھے کھڑے ہوکر لڑی جاسکتی ہیں۔ہمارے کئی واقف زندگی ایسے ہیں جو انجام بخیر کو پہنچے یا جن کے انجام بخیر کی ہم توقع رکھتے ہیں اور اُن کے لئے دعائیں کرتے ہیں۔کئی ٹھو کر بھی کھاتے ہیں۔آدم کے زمانہ سے اس وقت تک شیطان انسان کے ساتھ لگا ہوا ہے لیکن ٹھوکر کی ابتدا یوں ہوتی ہے کہ ہمیں وقف سے فارغ کر دیں ہم اسلام اور احمدیت کی خدمت میں ساری زندگی گزار دیں گے۔مگر جب تم امام کی ڈھال کے پیچھے سے ہٹ جاؤ گے تو پھر یا تو نعوذ باللہ حضرت نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان غلط ہوگا یا تمہاری خواہشات پوری نہیں ہوں گی (صدق اللہ ورسولہ ) کیونکہ اسلام کی جنگ الہی سلسلہ کی جنگ تو امام کو ڈھال بنا کر اس کے پیچھے لڑی جاسکتی ہے ورنہ نہیں لڑی جاسکتی۔اس حقیقت کو سمجھ لینے کے بعد دو چیزیں سامنے آتی ہیں ایک یہ کہ کبھی امام مصلحت بتائے گا اور کہے گا کہ یہ حکم ہے اس میں یہ یہ صلحتیں ہیں اس کے نتیجہ میں میں تمہارے سامنے یہ پروگرام رکھتا ہوں اور کبھی کہے گا میں تمہیں مصلحتیں نہیں بتاتا تمہیں یہ حکم ہے کہ مجھے ڈھال بنا کر میرے پیچھے کھڑے ہو کر جنگ لڑو۔پس بہت سے پروگرام ایسے بھی ہوتے ہیں جن کے متعلق مصلحتیں ہم نہیں بتاتے کیونکہ مصلحت بتانے میں مصلحت نہیں ہوتی اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے کہ ہماری بات کو مانو مثلاً میں نے انگلستان میں کہا کہ ہر احمدی بچہ یعنی طفل اور ہر خادم اور ناصرات کی ہر ممبر اپنے پاس ایک ربڑ کی غلیل اور چھ غلولے رکھے۔اب انگلستان میں رہائش کا جو طریق ہے وہاں غلیل استعمال ہی نہیں ہوسکتی۔دس دس گز کے تو ان کے صحن ہوتے ہیں ان کی عمارتوں کے ساتھ باغ