خطباتِ ناصر (جلد5 ۔ 1973ء، 1974ء) — Page 269
خطبات ناصر جلد پنجم ۲۶۹ خطبه جمعه ۲۸ ستمبر ۱۹۷۳ء قائم ہو چکی ہے اُن کی تربیت کا خیال تھا چنانچہ اللہ تعالیٰ نے ان کے تربیتی امور اور تربیتی اعمال کی طرف انہیں متوجہ کرنے کی توفیق عطا فرمائی اور اللہ تعالیٰ نے ان مخلصین کو توفیق عطا فرمائی کہ وہ اسلام کی خاطر مجنونانہ کام کے لئے تربیت حاصل کریں۔اللہ تعالیٰ اپنے فضل سے اُن کی اخلاقی اور روحانی قوتوں کی نشو و نما میں اور بھی اضافہ کرے۔پھر جہاں تک ان کی مہمان نوازی کا تعلق ہے۔اس دفعہ جماعت احمد یہ انگلستان نے پوری مہمان نوازی کی ہے یہاں سے تو ہم تھوڑی سی رقم لے جاسکتے تھے۔چنانچہ پانچ سو ڈالر لے کر گئے تھے اور وہ بھی انہوں نے انگلستان میں قبول نہیں کیے۔انہوں نے کہا کہ ہماری خواہش ہے کہ ہم پوری میزبانی کریں۔جب ہم نے یورپ کے ممالک کا دورہ کیا تو یہ رقم وہاں خرچ ہوئی لیکن انگلستان میں وہاں کی جماعت نے مکمل طور پر میز بانی کے فرائض بڑی خوش اسلوبی اور انتہائی پیار کے ساتھ ادا کئے۔فَجَزَاهُمُ اللَّهُ اَحْسَنَ الْجَزَاءِ مہمان نوازی کا بہت خرچ تھا اور پھر خرچ کے علاوہ انہوں نے کھانے پکانے وغیرہ کے سلسلہ میں دن رات خدمت کی کیونکہ جہاں جماعت احمدیہ کا امام ہوگا وہاں لوگ آئیں گے دن کو بھی آئیں گے اور رات کو بھی آئیں گے۔چنانچہ بعض دفعہ عام اتوار کے دنوں میں وہاں اڑھائی اڑھائی تین تین سو آدمی جمع ہو جاتے تھے اور وہ اُن کے لئے کبھی کھانے اور کبھی لائٹ ریفریشمنٹ (Light Refreshment) مثلاً چائے کافی اور بسکٹ وغیرہ کا انتظام کرتے تھے۔اس ساری میزبانی کا خرچ خود برداشت کرتے تھے۔میں نے اُن سے بھی کہا کہ یہ تو حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا لنگر ہے اس لئے جو کھانے کا خرچ ہے اس کو ہم خود اٹھائیں گے۔انہوں نے جواب دیا اور مجھے وہ ماننا پڑا کہ ہمارا کچن بھی حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے لنگر ہی کا حصہ ہے۔آپ ہمیں اس کی اجازت دیں تاکہ ہم اس کا ثواب حاصل کریں اور وہ انتظام بھی یعنی کھانے پینے کا سارا انتظام نو جوان بچے خود کرتے تھے۔آپ اُن کی شکلیں اور اُن کا انگلستان کا صاف ستھر الباس دیکھ کر یہ سوچ بھی نہیں سکیں گے کہ وہ سارا دن صبح سے لے کر شام تک قافلے اور دوسرے مہمانوں کے لئے کھانا تیار کرنے میں مصروف رہتے ہوں گے۔اور ہمارے