خطباتِ ناصر (جلد5 ۔ 1973ء، 1974ء) — Page 262
خطبات ناصر جلد پنجم ۲۶۲ خطبه جمعه ۲۸ ستمبر ۱۹۷۳ء کچھ کہنا چاہتا ہوں۔شاید لمبا خطبہ اس لئے نہ دے سکوں کہ جہاں اللہ تعالیٰ نے اس سفر میں کام کرنے کی توفیق عطا فرمائی وہاں اللہ تعالیٰ نے یہ فضل بھی فرمایا کہ اس عرصہ میں تھکان اور کوفت کا احساس بہت کم ہوا لیکن یہاں آنے کے بعد پچھلے دو ماہ کی کوفت کا اکٹھا احساس پیدا ہو گیا۔چنانچہ پچھلے دو دن میں جسم کا رواں رواں درد محسوس کرتا رہا اور آج بھی پوری طرح تھکان دُور ہونے کا جو احساس ہوتا ہے وہ نہیں ہے تاہم یہ چیزیں تو بہر حال انسانی جسم کے ساتھ لگی ہوئی ہیں۔اگست کی ۱۱ یا ۱۲ تاریخ کو ہمیں یہ اطلاع ملی کہ پاکستان میں بڑے زبر دست سیلاب آئے ہیں۔یورپین ملکوں کا ہمارے ساتھ غیر دوستانہ برتاؤ کا یہ حال ہے کہ ایک دن کسی نے اطلاع دی کہ بی بی سی ٹیلیویژن پر پاکستان کے سیلاب کے مناظر دکھائے جائیں گے چنانچہ ہم نے وہ مناظر دیکھے۔پانی ہی پانی نظر آتا تھا آبادیاں تو نظر نہیں آتی تھیں۔کہیں کہیں درختوں کی چوٹیاں یا کوئی اونچی جگہ یا کوئی بچا ہوا گھر دکھائی دیتا تھا۔ایک جگہ خشکی پر سو کے قریب آدمی دکھائے گئے تھے کہ یہ لوگ بچ گئے ہیں اور اردگرد کے دیہات سے وہاں اکٹھے ہو گئے ہیں جن میں زیادہ عورتیں تھیں اور کچھ مرد اور بچے تھے۔پھر نظارہ دکھایا گیا روٹی کی تقسیم کا۔اور اس وقت آنکھ نے جو دیکھا وہ بڑا ہی دُکھ وہ منظر تھا۔بیچارے مصیبت زدہ لوگوں کے ہاتھ میں ایک ایک یا دو دو روٹیاں ہیں اور ایک ہاتھ اُن روٹیوں پر بھاجی سی کوئی چیز ڈال رہا ہے تب نظر اُٹھا کر جو دیکھا تو جو بھاجی تقسیم کرنے والا تھا وہ ایک سکھ صاحب تھے اپنے کیسوں اور پگڑی سمیت۔معلوم ہوتا ہے کہ بی بی سی کے نمائندے نے ہندوستان کی کوئی پرانی فلم لی اور بڑے ذلیلا نہ طریقے پر کھانے کی تقسیم پر منظر پیش کر کے اس طرف توجہ پھیری کہ دیکھو مسلمان کیسے ذلیل طریقے سے کھانا کھاتے اور کھلاتے ہیں حالانکہ اس طرح ہاتھ سے اُٹھا اُٹھا کر بھاجی روٹیوں پر دینا مسلمان کی روایت کے خلاف ہے۔اب دیکھو کہا یہ گیا تھا کہ یہ پاکستان کے سیلاب کے نظارے ہیں جو دکھائے جائیں گے مگر جو دکھایا گیا اس کا ایک حصہ اہل پاکستان کی روایت کے خلاف تھا یا تو یہ جہالت کی انتہا ہے اور یا شرارت کی انتہا ہے۔اللہ تعالیٰ ہی بہتر جانتا ہے۔اللہ تعالیٰ ان لوگوں پر فضل کرے وہ ایسا کیوں کرتے ہیں یہ تو وہ جانہیں ہم تو یہ جانتے ہیں کہ جو کچھ انہوں نے کیا اس سے خودا پنی تذلیل کی۔