خطباتِ ناصر (جلد5 ۔ 1973ء، 1974ء) — Page 234
خطبات ناصر جلد پنجم ۲۳۴ خطبہ جمعہ ۱۳ جولائی ۱۹۷۳ء کے دل میں جمعہ چھوڑنے پر اتنا دکھ نہیں ہوتا۔اب وہ دعوی تو یہ کرے لیکن گھر میں بیٹھا ر ہے اور جب ڈیڑھ بج جائے تو سستی سے آنکھیں ملتا ہوا نیم دلی سے وضو کرے اور کپڑے بدلے اور کہے دیر ہوگئی ہے اب نہانا چھوڑتا ہوں اور پون گھنٹہ اسے اپنے گھر سے یہاں پہنچنے میں لگتا ہو تو جمعہ جو ایک فرض نماز ہے اس میں تو وہ شامل نہیں ہو سکے گا اور ممکن ہے وہ اپنے دل کو طفل تسلی دینے کے لئے یہ کہہ دے کہ اوہو! بڑی دیر ہوگئی ہے۔ہن تے جمعہ ملنا ہی نہیں ہن جان دا کی فائدہ اے۔کوئی گل نئیں گھر میں بیٹھ جاندے آں“ پس جس آدمی کی کام کرنے کی نیت ہو وہ اس کے لئے تیاری کیا کرتا ہے۔ایک چھوٹی سی اور مثال دے دیتا ہوں۔جس عورت یا جس بیوی کی یہ خواہش ہو کہ وہ اور اس کا میاں اور بچے بھوکے نہ رہیں۔تو وہ چولہا جلاتی ہے۔گرمیوں کے دنوں میں تکلیف اُٹھاتی ہے۔آگ کے سامنے بیٹھتی ہے اور سالن تیار کرتی ہے اور روٹیاں پکاتی ہے لیکن اگر کوئی عورت ( اور ایسی عورتیں ہیں ہمارے سامنے ان کے واقعات آتے رہتے ہیں ) یہ کہے کہ مجھے تو اپنے میاں اور بچوں کا بڑا خیال ہے لیکن میں گرمی برداشت نہیں کر سکتی۔میں ان کے لئے کھانا نہیں پکا سکتی اس لئے وہ جائیں جہنم میں۔جو مرضی آئے کرتے رہیں۔اب ان سے پیار کا اظہار بھی ہے اور جہنم میں بھجوانے کی باتیں بھی کرتی ہے۔اس قسم کی باتیں ایسی ہیں جن کو انسانی عقل قبول نہیں کرتی۔اللہ تعالیٰ جو عقل کل کا منبع اور سر چشمہ ہے وہ ان کو کیسے قبول کرے گا۔پس ہم نے تیاری کرنی ہے۔یہ ہمارا فرض ہے۔جماعت احمدیہ کے افراد کو انفرادی اور اجتماعی ہر دو اعتبار سے جتنی جتنی وسعت اور استطاعت ہے وہ پوری کی پوری خدا کی راہ میں خرچ کر دیں۔پھر اللہ تعالیٰ کا ان کو پورا ثواب اور پیار ملے گا۔اللہ تعالیٰ نے اس سلسلہ میں کیا ہی خوب فرمایا ہے۔لَا يُكَلِّفُ اللهُ نَفْسًا إِلَّا وُسْعَهَا۔جو کی رہ جائے گی اس کے لئے فرما یا۔لَهَا مَا كَسَبَتْ وَعَلَيْهَا مَا اكْتَسَبَتْ (البقرة: ۲۸۷) پہلے ٹکڑے میں بشارت دی گئی اور عظیم بشارت دی گئی ہے لیکن عظیم بشارت کے مطابق تم سے وہ قربانی نہیں مانگی گئی جس کی تم کو طاقت نہیں دی گئی لیکن جتنی تم کو طاقت دی گئی ہے اس کے مطابق انتہائی قربانی کا مطالبہ کیا گیا ہے اور پھر کامیابی اللہ تعالیٰ کے