خطباتِ ناصر (جلد5 ۔ 1973ء، 1974ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 226 of 836

خطباتِ ناصر (جلد5 ۔ 1973ء، 1974ء) — Page 226

خطبات ناصر جلد پنجم ۲۲۶ خطبہ جمعہ ۱۳ جولائی ۱۹۷۳ء زبان میں ترجمہ شدہ نسخہ جس کو اس گھر کے مکین بولتے اور سمجھتے ہیں وہ ہم نے پہنچانا ہے۔اللہ تعالیٰ کو انسان کے دل سے پیار ہے۔اس نے انسان کو اپنی محبت کے حصول کے لئے پیدا کیا ہے۔خدا تعالیٰ چاہتا ہے کہ انسان اس کا بندہ بنے ، اس کی صفات کا رنگ اپنے اوپر چڑھائے۔انسان جو زبان بولتا ہے اللہ تعالیٰ کو وہ زبان تو پیاری نہیں ہے سوائے اس الہی زبان کے جو کہ بنی نوع انسان کے فائدہ کے لحاظ سے بہترین زبان تھی۔اس لئے اللہ تعالیٰ نے اس کو اختیار فرمایا۔یہ نہیں کہ جو ہمارا محاورہ ہے کہ باقی زبانیں سوتیلی تھیں اور عربی اس کی اپنی تھی اس لئے اس نے عربی کو اپنا یا ایسا نہیں ہے۔اس زبان کو اللہ تعالیٰ نے کچھ اس طرح بنایا ہے اور انسانی دماغ کو اس طرف رہنمائی کی کہ ابدی زبان جو اپنی تمام خوبیوں کے ساتھ نظر آتی ہے وہ قرآنِ کریم کی زبان بن گئی۔پس عربی زبان کو اختیار کرنے کا صرف یہ مطلب ہے کہ اللہ تعالیٰ کی حکمت کا ملہ نے یہ چاہا کہ صرف یہی ایک زبان ہے جس میں آخری شریعت اگر اتاری جائے تو نوع انسانی کو اس سے سب سے زیادہ فائدہ پہنچ سکتا ہے کیونکہ یہ زبان مختلف معانی کی متحمل ہے۔یہ زمانہ اور ہے ملک کے حالات بدلتے رہتے ہیں اور اس تبدیلی کے نتیجہ میں کئی الجھنیں پیدا ہوتی ہیں۔اور کئی نئے مسائل جنم لیتے ہیں۔ان کو حل کرنے کے لئے زبان کے اندر وسعت کو سمیٹ لینا اور اس سمٹی ہوئی وسعت کو چھپالینے کی طاقت ہونی چاہیے یعنی ایسی زبان ہونی چاہیے جس کے متعلق محض فلسفیانہ رنگ میں نہیں یا اپنی خواہش کے رنگ میں نہیں بلکہ فی الحقیقت یہ کہا جاسکتا ہو کہ اس کے اندر باطنی رموز و اسرار رکھے جاسکتے ہیں۔اگر وہ زبان نہ ہو تو اس زبان میں اللہ تعالیٰ کے کلام نے ہر زمانہ کے مسائل کو حل کرنا ہوتو وہ نہیں کر سکے گی لیکن اگر اس زبان میں اتنی وسعت ہو کہ قیامت تک کے مسائل کے حل کرنے کے لئے وہ پوشیدہ اسرار جو اس زمانہ کے ساتھ تعلق رکھتے ہیں پوشیدہ اسرار کے طور پر ودیعت کر دیئے جائیں تو پھر اس زبان کو اختیار کیا جا سکتا ہے ورنہ نہیں کیا جاسکتا۔پس اصل زبان عربی ہے لیکن دنیا کے مختلف حصوں کے لوگوں کو سمجھانے کے لئے اس کا ترجمہ کیا جاتا ہے۔جو حتی الوسع کوشش کے باوجود پھر بھی ناقص رہتا ہے۔اس لئے ہم کہتے ہیں متن سے پیار کرو کیونکہ مطہر دل کو یہ بشارت دی گئی ہے کہ اللہ تعالیٰ خود تمہیں حالات کے مطابق