خطباتِ ناصر (جلد5 ۔ 1973ء، 1974ء) — Page 3
خطبات ناصر جلد پنجم خطبہ جمعہ ۵ /جنوری ۱۹۷۳ء فرمایا اور وہ اس میں سے خدا کی راہ میں خرچ کرتے ہیں مثلاً اپنی آمد کا ۱٫۱۰ اور ۱٫۳ کے در میان حصہ وصیت ادا کرتے ہیں گویا وہ نیکی کی قوتوں کو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے رسالہ وصیت کی شرائط کے مطابق استعمال کرتے ہیں۔پس اللہ تعالیٰ نے اُن کو قو تیں عطا کیں اور پھر اُن کے صحیح مصرف کی توفیق بھی عطا فرمائی۔ظاہر ہے کہ کسی کی آمد کا ۱/۱۰ حصہ سینما بینی پر بھی خرچ کیا جا سکتا ہے اور اللہ تعالیٰ کی راہ میں بھی خرچ کیا جا سکتا ہے مگر اللہ تعالیٰ نے موصیان کو یہ توفیق عطا فرمائی کہ وہ نیکی کی راہ میں اپنے مال کا ایک بڑا حصہ خرچ کریں۔اُن کو یہ توفیق بخشی کہ وہ اس معیار پر آنے کی کوشش کریں (میں یہ نہیں کہتا کہ وہ اس معیار پر آگئے ہیں ) جو معیار کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے ایک موصی کا رسالہ الوصیت میں بیان فرمایا ہے یا آپ نے اپنی کتب میں بعض دوسری جگہوں پر اس کا ذکر کیا ہے تاہم اس کا جو انفرادی پہلو ہے یعنی ہر موصی کی ذات کا تعلق ہے تو اللہ تعالیٰ کے فضل سے بھاری اکثریت ایسی ہے جس میں کامیابی کا پہلو نمایاں ہے یعنی وہ شکر گزار بندے ہیں لیکن اجتماعی زندگی میں ابھی تک وہ اس مقام پر نہیں پہنچے جس مقام پر موصیان اور موصیات ہمیں نظر آنے چاہئیں۔میں نے قریباً سات سال قبل موصیان کی ایک تنظیم کا اعلان کیا تھا اور کچھ ابتدائی کام اُن کے ذمہ لگائے تھے چنانچہ میرا خیال تھا کہ بعد میں اجتماعی طور پر کچھ اور کام بھی اُن کے ذمہ لگائے جائیں گے لیکن چونکہ اُن کی جو ابتدائی ذمہ داریاں تھیں وہ ایک خاص معیار تک نہیں پہنچیں اس لئے وہ ذمہ داریاں جن کے متعلق میرا یہ خیال تھا کہ دوسرے مرحلہ پر اُن کو بتائی جائیں گی اور وہ ان ذمہ داریوں کو بھی اجتماعی رنگ میں نباہنے کی کوشش کریں گے اس کے متعلق میں نے خاموشی اختیار کی۔جہاں تک موصیان کے لئے ابتدائی کام کرنے کا سوال تھا۔میں نے یہ کام ان کے ذمہ لگایا تھا کہ تمہارے گھر میں بڑا ہو یا چھوٹا، مرد ہو یا عورت کوئی بھی ایسا نہ رہے جو قرآنِ کریم کے پڑھنے کی عمر کو پہنچا ہوا ہو لیکن قرآن کریم پڑھ نہ سکتا ہو یا تر جمہ جانے کی عمر کو پہنچا ہوا ہو مگر تر جمہ نہ جانتا ہو یا عام روز مرہ زندگی سے تعلق رکھنے والی تفسیر قرآن کا انہیں علم نہ ہو۔گو یہ صحیح ہے کہ عمیق۔