خطباتِ ناصر (جلد5 ۔ 1973ء، 1974ء) — Page 201
خطبات ناصر جلد پنجم ۲۰۱ خطبہ جمعہ ۲۹ جون ۱۹۷۳ء ایمان میں غیب کا ایک بڑا حصہ ہے اور قرائن قویہ مرتبہ کی وجہ سے ہم ایمان لاتے ہیں مثلاً پہلی صدی کے انسان نے کہا کہ میرے اوپر احسان کیا اور یہ کہنے کے بعد احسان کیا کہ میں تمہارے لئے محسن اعظم ہوں آپ نے جو کہا وہ ہماری زندگیوں میں پورا ہوا۔جو آئندہ کے متعلق کہا گیا ہے وہ پورا ہوگا۔اسی طرح اور بیسیوں پہلو پیش کئے جاسکتے ہیں جو قرآئن کا حکم رکھتے ہیں جن کے نتیجہ میں ترجیح اس بات کو دی گئی کہ ہم یقین کی طرف مائل ہو جائیں اور ایمان لے آئیں۔قرآن کریم نے اسی تسلسل میں یہ دعوی کیا کہ میں اب ہمیشہ کے لئے نوع انسانی کے ہر قسم کے مسائل کو حل کروں گا اور ان کی روحانی ضروریات کو اور ان کی دنیاوی ضروریات کے بنیادی مسائل کو حل کروں گا اور قرآن کریم نے ایک بڑا قوی قرینہ جو قائم کیا وہ یہ ہے کہ قرآن کو ہمیشہ مطہر بندے سمجھ سکیں گے۔لَا يَمَسُّةَ إِلَّا الْمُطَهَّرُونَ (الواقعة : ۸۰) میں جہاں اس بات کا ذکر ہے کہ مطہرین پر نئے سے نئے اسرار قرآنی کھولے جاتے ہیں وہاں یہ بھی تو ذکر ہو گیا نا! کہ قرآنِ کریم میں اسرار ورموز چھپے ہوئے ہیں ورنہ مطہر کہنے کی ضرورت ہی نہیں تھی۔اگر ہر چیز قرآن کریم کی پہلی صدیوں میں ظاہر ہوگئی تو پھر نہ قرآن کریم پر ایمان بالغیب کی ضرورت ہے نہ آئندہ کسی مطہر کی ضرورت ہے کیونکہ قرآنِ کریم کے علوم میں کوئی اسرار و رموز اور بنیادی حقیقتیں جو آئندہ زمانہ سے تعلق رکھتی تھیں وہ باقی نہیں رہیں تو قرآن کریم پر ایمان ، ایمان بالغیب سے بھی تعلق رکھتا یعنی کتاب مبین کے ساتھ ساتھ ایک بڑا حصہ ایمان بالغیب کے ساتھ تعلق رکھتا ہے یعنی کتاب مکنون پر ایمان پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ذریعہ اور آپ سے انتہائی محبت رکھنے والے اولیاء کے ذریعہ اور پھر آج کے زمانہ میں حضرت مہدی معہود علیہ السلام کے ذریعہ بہت سی بشارات دی گئی ہیں۔بشارات کے اصولی طور پر دو حصے ہیں ایک یہ کہ صبح کے وقت بشارت دی گئی اور ابھی سورج غروب نہیں ہوا تھا کہ وہ پوری ہو گئی۔ایک وہ ہے کہ بشارت دی گئی اور اس کے لئے کوئی وقت دو چار یا پانچ سال بعد کا مقرر کر دیا گیا مثلاً مصلح موعود رضی اللہ عنہ کی پیشگوئی جو کسی کے لئے انذار نہیں رکھتی لیکن غلبہ اسلام کے لئے بڑی بشارت تھی اور لیکھرام کی پیشگوئی جو اس کے لئے انذاری پیشگوئی تھی لیکن اسلام کے حق میں انتہائی مبشر پیشگوئی تھی کیونکہ اصل غرض کسی کی جان لینا تو نہیں