خطباتِ ناصر (جلد5 ۔ 1973ء، 1974ء) — Page 192
خطبات ناصر جلد پنجم ۱۹۲ خطبہ جمعہ یکم جون ۱۹۷۳ء اسی اصول کی رہنمائی کرتا ہے کہ میں نے جو کچھ بھی پیدا کیا ہے میری صفات کی جو تجلیات تمہیں اپنی زندگیوں اور اپنے ماحول میں نظر آتی ہیں اگر تم ان کا غور سے مشاہدہ کرو گے تو اس نتیجہ پر پہنچو گے کہ ہر شے کے حصول کے لئے ایک سیدھا اور مقررہ راستہ ہوتا ہے۔وسائل ہوتے ہیں جن کے بغیر انسان کسی چیز کو حاصل نہیں کر سکتا سیدھی راہیں ہوتی ہیں جن پر چلے بغیر انسان منزل مقصود تک پہنچ نہیں سکتا۔پس اگر یہ درست ہے اور یقیناً یہی درست ہے تو بنیادی دعا جو ایک انسان کو مانگنی چاہیے وہ یہی ہے کہ اے ہمارے خدا! ہمارا جو بھی نیک مقصد ہو اس کے حصول کے لئے جو سیدھی راہ ہے یعنی صراط مستقیم وہ ہمیں دکھا اور چونکہ انسان کی پیدائش کی اصل غرض خدا تعالیٰ سے ایک زندہ تعلق کو قائم کرنا ہے۔اس لئے یہ دعا یوں بنے گی کہ اے ہمارے خدا! ہمیں وہ سیدھا راستہ دکھا جس پر چل کر ہم تجھ تک پہنچ سکیں اور تیرا قرب حاصل کر سکیں۔غرض جب تک اللہ تعالیٰ وہ راہ نہ دکھائے جب تک انسان محنت اور کوشش اور مجاہدہ کے ذریعہ اور دعا اور تضرع کے ساتھ اللہ تعالیٰ کے اس فضل کو جذب نہ کرے جس کے نتیجہ میں اسے سیدھی راہ دکھائی جاتی ہے اس وقت تک خدا تعالیٰ کا قرب حاصل کرنا اس کا مقرب بن جانا اس کا محبوب بن جا نا ممکن ہی نہیں۔پس جہاں تک مقصدِ حیات کا تعلق ہے یہ دعا کامل اور مکمل ہے لیکن یہیں بس نہیں بہت ساری ذیلی چیزیں ہیں جو حقیقتا اسی مقصود کے حصول کے لئے ہیں مثلاً صحت کا قائم رہنا صحت کے قیام کے ساتھ اصل مقصد تو یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کی محبت اور پیار کے حصول کے لئے زیادہ سے زیادہ کوشش اور محنت کی جاسکے اور دعائیں کی جائیں۔ایسی دعائیں جو نسل کی طرح تڑپا دیتی اور خدا تعالیٰ کو پیاری ہیں ہمارے جسم اور ہماری روح کو اس مشقت کے برداشت کرنے کی توفیق ملے۔چنانچہ قیام صحت کے لئے اللہ تعالیٰ نے کچھ راہیں یعنی کچھ طریقے مقرر کئے ہیں۔کچھ وسائل پیدا کئے ہیں ان راہوں کا علم حاصل کئے بغیر اور ان وسائل کے حصول کے بغیر ہم اپنی صحت کو قائم