خطباتِ ناصر (جلد5 ۔ 1973ء، 1974ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 151 of 836

خطباتِ ناصر (جلد5 ۔ 1973ء، 1974ء) — Page 151

خطبات ناصر جلد پنجم ۱۵۱ خطبه جمعه ۴ رمئی ۱۹۷۳ء اور اس کے منصوبہ کے مقابلہ میں کھڑا ہوا خدا کے قہری ہاتھ نے اسے نیست و نابود کر دیا اور اس کا نام و نشان تک مٹا دیا۔پس کسی کے مسلمان ہونے یا نہ ہونے کے متعلق فتوے دینا انسان کا کام ہی نہیں ہے تاہم جنہوں نے اس قرار داد کو پاس کروایا ہے ہمیں ان کا علم ہے۔یہاں پاکستان میں ایک گروہ ایسا ہے جنہوں نے آزاد کشمیر اسمبلی کی اس قرار داد کا سہارا لے کر ( جیسا کہ میاں طفیل محمد صاحب نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ آزاد کشمیر اسمبلی نے کمال کر دیا ) پاکستان کی حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ بھی اسی قسم کا قانون پاس کرے۔جیسا کہ میں نے پہلے بھی بتایا ہے کہ ایک تو اس مطالبہ کے ساتھ یہ اعلان کر دیا کہ ”حلف“ کے الفاظ احمدیوں کو غیر مسلم اقلیت قرار دینے کے لئے کافی نہیں، کچھ اور بھی چاہیے دوسرے اس قرار داد کی کوئی حقیقت نہیں ، تیسرے ہماری شنید یہ ہے (میرے پاس تو کوئی ایسا ذریعہ نہیں کہ میں تحقیق کر کے ثبوت پیش کروں لیکن سننے میں آیا ہے ) کہ یہ لوگ یعنی جماعت اسلامی اور ان کے ہم پیالہ و ہم نوالہ حکومت کو خوف زدہ اور پریشان کرنے کے لئے دھمکیاں دے رہے ہیں کہ اگر حکومت نے ایسا نہ کیا تو ۵۳ ء جیسے حالات پیدا ہو جائیں گے۔یہ بات تو مجھے سمجھ نہیں آتی کہ وہ حکومت وقت کو ایسا کمزور اور بزدل کیوں سمجھتے ہیں کہ حکومت ان کی اس قسم کی دھمکیوں سے مرعوب ہو جائے گی تاہم اس کا تعلق حکومت سے ہے مجھے اس سے کوئی سروکار نہیں لیکن جہاں تک ۵۳ ء کا سوال ہے اور جہاں تک اس سے احمدیوں کو ڈرانے کا سوال ہے اس سے میرا ضرور تعلق ہے۔در اصل ۵۳ء کا نام لے کر وہ اپنے نفسوں کو اور اپنے ساتھیوں کو دھوکا دے رہے ہیں۔۵۳ء کے فسادات کی حقیقت یہ ہے کہ ان لوگوں کو اُس وقت اتنی ذلت اٹھانی پڑی تھی کہ اگر وہ ذرا بھی سوجھ بوجھ سے کام لیتے تو ۵۳ ء کا کبھی نام تک نہ لیتے مگر جماعت احمدیہ نے اُس فساد فی الملک میں اللہ تعالیٰ کی تائید و نصرت کے عظیم نشان دیکھے۔اللہ تعالیٰ کی رحمت نے جماعت کو بڑی ترقی عطا فرمائی اس لئے ہمارے حق میں ۵۳ ء بڑا مبارک زمانہ ہے جس میں جماعت نے بڑی تیزی سے ترقی کی اور رفعتوں میں کہیں سے کہیں جا پہنچی۔تربیت کے لحاظ سے بھی اور وسعت تبلیغ کے لحاظ