خطباتِ ناصر (جلد5 ۔ 1973ء، 1974ء) — Page 144
خطبہ جمعہ ۴ رمئی ۱۹۷۳ء خطبات ناصر جلد پنجم ۱۴۴ چنانچہ میں نے آزاد کشمیر سے بعض ذمہ دار آدمیوں کو بلوایا۔اُس وقت تک صحیح صورت حال سامنے نہیں آئی تھی۔اگلے دن وہ میرے پاس پہنچ گئے۔میں نے کہا دیکھیں! ایک بات میں آپ کو بنیادی ہدایت کے طور پر ابھی کہہ دیتا ہوں اور وہ یہ ہے کہ اگر یہ قانون کی صورت میں منظور بھی ہو جائے تو قانون یہ کہتا ہے کہ ہر وہ احمدی جو خود کو غیر مسلم سمجھتا ہے وہ اپنا نام رجسٹر کر وائے۔ہمیں اس پر کوئی اعتراض نہیں ہے کیونکہ ہر احمدی اپنے آپ کو مسلمان سمجھتا ہے اور خدائے علیم و خبیر کی نگاہ میں بھی مسلمان ہے اس لئے اُس پر یہ قانون لاگو نہیں ہوتا۔آپ سارے احمدیوں کو بتادیں کہ نام رجسٹر کروانے کی ضرورت نہیں ہے کیونکہ جب ہم اپنے آپ کو مسلمان سمجھتے ہیں تو ہمارے اوپر یہ قانون لاگو نہیں ہو سکتا۔ایک آدمی جو اپنے آپ کو مسلمان سمجھتا ہے وہ غیر مسلم کی حیثیت میں نام کیسے رجسٹر کروائے گا؟ اگر وہ ایسا کرے گا تو وہ گویا جھوٹ بول رہا ہوگا اور اسلام نے جھوٹ بولنے کی اجازت نہیں دی۔غرض میں نے آزاد کشمیر کے دوستوں سے کہا تم جاؤ اور بے فکر رہو۔اگر کوئی آدمی تمہارے نام رجسٹر کرنے کے لئے آئے اور میرے نزدیک انشاء اللہ کوئی بھی رجسٹر کرنے کے لئے نہیں آئے گا لیکن اگر خدانخواستہ ایسا وقت آ جائے تو تمہارے لئے ضروری ہے کہ تم اس بنیادی ہدایت کو سامنے رکھو جس کا میں نے ابھی ذکر کیا ہے۔نمائندوں پر مشتمل پھر ہم نے پتہ لیا کہ یہ اسمبلی کا کیا قصہ ہے اور میر پور کے اجلاس میں کون کون شامل ہوا؟ یہ کتنی بڑی اسمبلی ہے؟ کیونکہ لوگ تو یہ سمجھتے ہیں کہ دوسرے ملکوں کی طرح یہ بھی کوئی اچھی خاصی اسمبلی ہے جس نے قرار داد پاس کی ہے۔چنانچہ ہمیں یہ پتہ لگا کہ آزاد کشمیر کی اسمبلی گل ۲۵ ہے۔جن میں سے ۱۱ نمائندوں نے جو حکومت آزاد کشمیر کے مخالف ہیں بائیکاٹ کر رکھا ہے اور وہ اس اجلاس میں شامل ہی نہیں تھے۔باقی ۱۴ رہ جاتے ہیں۔ان میں سے بھی بعض غیر حاضر تھے ابھی پوری تحقیق نہیں ہو سکی۔ایک اطلاع کے مطابق اس اجلاس میں (جس میں قرار داد پاس کی گئی ) 9 نمائندے حصہ لے رہے تھے۔اب ۹ نمائندوں کی پاس کردہ سفارش پرلوگوں کا شور مچادینا کہ آزاد کشمیر کی اسمبلی نے متفقہ طور پر قرارداد پاس کر دی ہے فتنہ انگیزی