خطباتِ ناصر (جلد5 ۔ 1973ء، 1974ء) — Page 119
خطبات ناصر جلد پنجم ١١٩ خطبه جمعه ۱۳ را پریل ۱۹۷۳ء پیدا ہو جاتے ہیں۔ان تقاضوں کا ایک حصہ دستور کے ساتھ تعلق رکھتا ہے۔اس واسطے دستور میں لازماً ترمیم کرنی پڑتی ہے دوسرے احساس خامی ترمیم دستور کا باعث بنتا ہے۔گو دستور کے نفاذ پر ابھی لمبا عرصہ نہیں گذرا ہوتا۔حالات ابھی بدلے نہیں ہوتے لیکن سیاسی اقتدار رکھنے والوں کے دلوں میں یہ احساس پیدا ہوتا ہے کہ دستور میں فلاں جگہ فلاں کمی رہ گئی ہے۔وہ دور ہونی چاہیے چنانچہ آپ نے دیکھا ہوگا کہ ہمارے اس دستور کے آخری مراحل میں بھی کچھ قوانین جو بن چکے تھے ان میں حکومت نے دستوریہ کے سامنے یہ تجویز پیش کی کہ فلاں حصوں میں خامیاں نظر آتی ہیں۔بعض لفظی خامیاں ہیں بعض بنیادی خامیاں رہ گئی ہیں۔ان کو دور کرنا ضروری ہے۔چنانچہ دوبارہ بحث و تمحیص کے بعد متعلقہ خامیوں کو دور کرنے کی کوشش کی گئی۔یہ تو وہ خامیاں تھیں جن کے متعلق بحث کے دوران ہی احساس پیدا ہو گیا لیکن ان بہت ساری خامیوں کے متعلق تو کچھ نہیں کہا جاسکتا جو موجود تو ہوسکتی ہیں اور ہیں لیکن ان کے متعلق تبدیلی کا احساس پیدا نہیں ہوا۔کل، پرسوں، اگلے ماہ، دو چار مہینے بعد یا سال کے بعد احساس پیدا ہو گا کہ فلاں شق میں غلطی رہ گئی ہے۔وہ دور ہونی چاہیے۔بہر حال یہ ایسی باتیں ہیں جو قوم کے سامنے آتی رہیں گی اور وہ ان کی اصلاح کرے گی۔ہمیں یہ دعا کرنی چاہیے کہ اگر اور جو غلطیاں یا خامیاں اس وقت دستور کے الفاظ میں یا اس کے مضمون میں رہ گئی ہیں۔قبل اس کے کہ کوئی خرابی رونما ہو اور قوم کو نقصان پہنچے، اللہ تعالیٰ اپنے فضل سے قوم کو ان خرابیوں کے دور کرنے کی جلد از جلد تو فیق عطا فرمائے۔در اصل یہ تو سب کا سانجھا کام ہے۔جس کسی شخص کو بھی کوئی غلطی نظر آئے گی وہ اس کی نشاندہی کرے گا تا کہ اصلاح ہو جائے۔باقی جو لوگ برسراقتدار ہوتے ہیں ، ان کی سمجھ میں اگر کوئی بات نہ آئے اور اس وجہ سے وہ اصلاح کی طرف متوجہ نہ ہوں تو بھی حسن ظن سے کام لینا چاہیے اور کہ دینا چاہیے کہ ہماری بات تو ٹھیک ہے لیکن حزب اقتدار کو سمجھ نہیں آئی۔بدظنی بہر حال نہیں کرنی چاہیے۔دستور باہمی تعلقات کو متعین کرنے اور مستحکم کر دینے کا ذریعہ ہوتا ہے مثلاً ایک شکل وفاقی دستور ہے جس میں وفاقی یونٹوں (جن کو ہم اپنے ملک کے لحاظ سے صوبے کہتے ہیں ) کے