خطباتِ ناصر (جلد5 ۔ 1973ء، 1974ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 118 of 836

خطباتِ ناصر (جلد5 ۔ 1973ء، 1974ء) — Page 118

خطبات ناصر جلد پنجم ۱۱۸ خطبه جمعه ۱۳ را پریل ۱۹۷۳ء اللہ تعالیٰ کی حمد سے لبریز ہیں کہ ہماری اس سر زمین کو جسے اللہ تعالیٰ نے اسلام کی نشاۃ ثانیہ کے لئے منتخب فرمایا ہے اس میں بسنے والی اس عظیم قوم کو اللہ تعالیٰ نے توفیق بخشی کہ وہ اپنے لئے ایک دستور بنائے۔جہاں تک دستور یا کانسٹی ٹیوشن کی تیاری کا سوال ہے، یہ کسی الہامی کتاب کی طرح تو نہیں ہوتا اسے قرآن عظیم کا مقام تو حاصل نہیں ہوتا کیونکہ قرآن عظیم ایک ایسی الہامی کتاب ہے جس کی کوئی آیت، کوئی لفظ اور کوئی شعشہ منسوخ نہیں ہو سکتا۔بدلا نہیں جا سکتا مگر دستوران بنیادی قوانین پر مشتمل ہوتا ہے جسے قوم کے چند نمائندے تیار کرتے ہیں اور وہ قوم اور ملک کی سیاسی اور معاشرتی زندگی کی بنیاد بنتا ہے۔گویا یہ ایک کھونٹا ہوتا ہے جس کے گرد قوم سیاسی اور معاشرتی لحاظ سے گھومتی ہے اس سے قبل نہ یہ کھونٹا تھا، نہ کوئی معین حدود تھیں جن کے اندر رہ کر قوم نے ارتقائی حرکت کرتے ہوئے اپنے مقدر کو پانا اور اپنی منزل مقصود تک پہنچنا تھا۔چونکہ سیاسی اور معاشرتی ترقی کی کوئی بنیاد موجود نہیں تھی اس لئے ساری قوم ادھر ادھر بھٹک رہی تھی۔اب اسے ایک بنیا دل گئی ہے۔ایک دستور بن گیا ہے۔سیاسی اور معاشرتی لحاظ سے قومی ترقی کی حدود معین کر دی گئی ہیں۔بہر حال قوم بجا طور پر خوش ہے کہ اسے ایک دستور مل گیا ہے۔ہم بھی بڑے خوش ہیں یہ خوشی منانے کا ہفتہ ہے اس لئے ہم بھی خوشی منا رہے ہیں۔چراغاں کر رہے ہیں۔یہ دعائیں کرنے کے ایام ہیں۔ہم بھی دعائیں کر رہے اور کرتے رہیں گے یہ ایسا موقع ہے کہ جماعت کو دعائیں کرنی چاہئیں کہ اللہ تعالیٰ اس دستور کو قوم کے لئے اور اسلام کی نشاۃ ثانیہ کی مہم کے لئے بہت ہی با برکت کرے۔ہر دستور چونکہ انسان کا بنایا ہوا ہوتا ہے اس لئے یہ سمجھنا غلط ہے کہ اس کے اندر کوئی خامی یا کوئی کمزوری نہیں یا اس میں اصلاح کی کوئی گنجائش نہیں۔ہر انسانی کام کے اندر انسانی کمزوریاں تھوڑی یا بہت ضرور ہوتی ہیں۔اس لئے دنیا کا کوئی دستور ایسا نہیں ہے جس میں ترمیم کی ضرورت نہ پڑی ہو اور ترمیم کی ضرورت دو وجوہات کی بنا پر پیدا ہوتی ہے ایک اس وجہ سے کہ وقت گذرنے کے ساتھ ساتھ حالات بدل جاتے ہیں۔سیاسی اور معاشرتی لحاظ سے بعض نئے تقاضے