خطباتِ ناصر (جلد5 ۔ 1973ء، 1974ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 98 of 836

خطباتِ ناصر (جلد5 ۔ 1973ء، 1974ء) — Page 98

خطبات ناصر جلد پنجم ۹۸ خطبه جمعه ۳۰ مارچ ۱۹۷۳ء اپنی زندگی کا ہر لمحہ حضرت رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر قربان کر دیا اور غلبہ اسلام کے لئے جس کی تڑپ نے اور جس کے دل میں خدا اور اس کے رسول کے پیار نے اور جس کی متضرعانہ دعاؤں نے ایک ایسی قوم پیدا کی جس نے ساری دنیا کے ساتھ جنگ کو قبول کیا لیکن حضرت رسولِ کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ اپنی محبت کا رشتہ قطع نہیں کیا اس فرزند جلیل کے اس روحانی رتبہ کی وجہ سے جو ساتویں آسمان پر حضرت رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے قدموں کے نیچے ہے اس سے ختم نبوت میں کیسے خلل پڑ گیا ؟ یہ ایک سمجھنے کی بات ہے اللہ تعالیٰ لوگوں کو سمجھ عطا فرمائے۔باقی ہم سمجھتے ہیں کہ جو شخص یہ مسئلہ نہیں سمجھتا وہ دراصل بغض کی وجہ سے یا جہالت کے نتیجہ میں یا تعصب کی وجہ سے یا روحانی اقدار حاصل نہ کرنے کے نتیجہ میں ایسا کرتا ہے کیونکہ امت محمدیہ کے علماء دو مختلف ( علمائے ظاہر اور علمائے باطن کے ) گروہوں میں بٹے ہوئے نظر آتے ہیں۔پہلے لوگوں نے بھی ان کے متعلق یہی کہا ہے اور اب بھی یہی کہا جاسکتا ہے۔ایک وہ ہے جس کو خدا تعالیٰ نے قرآن کریم سکھایا اور ایک وہ ہے جس نے خدا سے سیکھے ہوئے کو یاد کیا سمجھ کر اور کچھ بغیر سمجھے کے، دونوں میں زمین و آسمان کا فرق ہے۔میں اس وقت اس تفصیل میں جانا نہیں چاہتا۔بہر حال ہم بھی حضرت محمد رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو خاتم الانبیاء اور آخری نبی مانتے ہیں اور اس محکم یقین پر قائم ہیں کہ کوئی شخص روحانی رفعتوں کے لحاظ سے پہلے، دوسرے، تیسرے، چوتھے ، پانچویں، چھٹے اور ساتویں آسمان تک پہنچنے کے باوجود مقام ختم نبوت میں خلل انداز نہیں ہوسکتا ساتویں آسمان پر پہنچ کر اس کا مقام حضرت محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے مقام سے نیچے مگر آپ کے قریب تر مقام ہوگا کیونکہ چھٹے آسمان پر حضرت موسیٰ علیہ السلام کے مقام اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے مقام کے درمیان ایک پورا ساتواں آسمان حائل ہے۔حضرت موسیٰ علیہ السلام وہ قرب نہیں پا سکے جو حضرت ابراہیم علیہ السلام نے پایا تھا اسی واسطے ان کے دل میں جب یہ خواہش پیدا ہوئی کہ وہ اس تجلی کو دیکھیں جو حضرت رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم پر نازل ہونے والی تھی تو اس کے ہزارویں حصہ سے بھی تھوڑی سی جھلک کے نتیجہ میں خَرِّ مُوسى صَعِقًا (الاعراف: ۱۴۴) یعنی حضرت موسیٰ علیہ السلام بے ہوش ہو کر گر پڑے اللہ تعالیٰ نے دنیا کو یہ نظارہ دکھا یا لیکن