خطباتِ ناصر (جلد5 ۔ 1973ء، 1974ء) — Page 96
خطبات ناصر جلد پنجم ۹۶ خطبه جمعه ۳۰ مارچ ۱۹۷۳ء سینکڑوں سال تک حضرت محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے استقبال کی تیاری کرتی رہی ہے۔عام طور پر دیکھا جاتا ہے کہ کسی جگہ ڈی سی صاحب نے آنا ہوتا ہے۔تین چار دن پہلے تیاری کی جاتی ہے۔کمشنر صاحب کے لئے آٹھ دس دن پہلے اور صدرمملکت مثلاً امریکہ کا صدر نکسن ہوتو اس کے استقبال کے لئے لوگ کئی مہینے پہلے تیاری کرنا شروع کر دیتے ہیں مگر وہ عظیم ہستی جس کے مقابلہ میں جس سے ارفع کسی انسان نے پیدا نہیں ہونا تھا اس کے استقبال کے لئے صدیوں کی تیاری کی ضرورت تھی حضرت خاتم الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کے لئے ایک قوم تیار کی جانی تھی جس نے آپ کا استقبال کرنا تھا اور آپ کی قوت قدسیہ اور روحانی اثرات کو قبول کرنا تھا جس نے اپنے عمل سے یہ ثابت کرنا تھا کہ جس طرح حضرت ابراہیم علیہ السلام اپنے بیٹے کو خدا کی راہ میں قربان کرنے کے لئے تیار ہو گئے تھے اسی طرح ہم اپنی نسلوں کو حضرت محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے قدموں پر خدا تعالیٰ کی خاطر قربان کرنے کے لئے تیار ہیں یہ وہ ذبح عظیم ہے جس کی وجہ سے حضرت اسماعیل علیہ السلام کی جان بچ گئی اور یہی وہ ذبح عظیم ہے جس کی ہزاروں مثالیں ابتداء دور اسلام میں ملتی ہیں۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اور اسلام اور آپ کے مشن کے دفاع میں میدان کارزار میں جو کٹی ہوئی گرد میں نظر آتی ہیں وہ ذبح عظیم کی درخشندہ مثالیں ہیں۔ایک قوم کو تیار کرنے کا حکم تھا جو خدا کی راہ میں اپنی جانیں قربان کر دے ایک بچے کی جان لینے سے کام نہیں بنتا تھا چنانچہ ایک جان نثار قوم تیار ہوئی اور اس میں سے کئی بدر کے میدان میں شہید ہوئے پھر وہ جنگ اُحد میں شہید ہوئے یکے بعد دیگرے ہر جنگ میں شہید ہوتے رہے۔وہ عرب کے میدانوں میں شہید ہوئے وہ ایران کے میدانوں میں شہید ہوئے وہ روم کے میدانوں میں شہید ہوئے وہ مصر کے میدانوں میں شہید ہوئے مغربی افریقہ کے میدانوں میں شہید ہوئے۔وہ اسپین سے آگے نکل کر فرانس کے شمالی علاقوں میں جا نکلے۔وہ روم میں جا پہنچے جو اس وقت ترکی میں شامل تھا اور پھر پولینڈ تک چلے گئے۔انہوں نے اپنی جانوں کو خدا کی راہ میں قربان کرتے ہوئے زمین کو اپنے خون سے سرخ کر دیا۔پس یہ ہے وہ ذبح عظیم جو حضرت اسماعیل علیہ السلام کی نسل سے لی گئی۔حضرت ابراہیم علیہ السلام