خطباتِ ناصر (جلد5 ۔ 1973ء، 1974ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 71 of 836

خطباتِ ناصر (جلد5 ۔ 1973ء، 1974ء) — Page 71

خطبات ناصر جلد پنجم اے خطبہ جمعہ ۱۶ / مارچ ۱۹۷۳ء بڑا پریشان ہوا۔میں نے بڑی دعا کی۔چنانچہ اللہ تعالیٰ نے مجھے یہ رقم بچانے کا منصوبہ بتایا۔ہمارے ربوہ میں اٹھارہ سے زیادہ محلے ہیں۔اگر فی محلہ چھ انچ کھدائی کر دے تو اٹھارہ محلے نوفٹ کھدائی کریں گے چھ انچ کھدائی کوئی مشکل بات نہیں۔ہر ایک محلہ چھ انچ کھدائی کرتا جائے تو ہمارا آٹھ دس ہزار روپیہ بچ جائے گا اور وہ اشاعتِ قرآن میں آپ کی طرف سے کنٹری بیوشن (Contribution) یعنی عطیہ متصور ہوگا۔دراصل اس پریس کے قیام کی غرض یہی ہے که قرآن کریم سستا طبع ہو کر دنیا میں تقسیم ہو۔ستی طباعت کے لئے ضروری ہے کہ جو اوور ہیڈ چارجز (Over head charges) ہیں یعنی عمارت وغیرہ کے خرچ ہیں وہ جہاں تک ممکن ہو کم کئے جائیں۔بعض چیزیں ہیں جو کم کرنی ممکن نہیں ہوتیں مثلاً ہم چاہتے ہیں کہ پرنٹنگ کی بہترین مشینری ملے اب اگر کوئی آکر کہہ دے کہ آپ نے کہا ہے کم خرچ کرنا ہے۔لنڈے بازار میں چار ہزار روپے کی مل رہی ہے آپ نے ہمیں ہزار روپے کیوں خرچ کر دیا۔تو میں کہوں گا کہ لنڈے بازار کی چار ہزار کی مشین ہمیں نہیں چاہیے۔اس واسطے کہ جہاں تک میرے جذبات کا تعلق ہے میری غیرت یہ گوارا نہیں کرتی اور نہ آپ کی غیرت گوارا کرے گی کہ انسان اشاعت قرآن کے لئے لنڈے بازار کی چار ہزار کی مشینری لگائے اور اشاعت بائیبل کے لئے ایک دوسرا گروہ دس لاکھ کی مشینری لگائے پس قرآن کریم کی اشاعت کے لئے چیز تو بہترین ہوگی۔لیکن بہترین چیز کا حصول نسبتا کم دام پر بھی ممکن ہے اور اسی چیز کا حصول نسبتاً زیادہ پیسے خرچ کر کے بھی ہوتا ہے ہمیں نسبتا کم دام خرچ کرنے چاہئیں اس طرح وقار عمل کے ذریعہ ہم آٹھ دس ہزار روپیہ بچالیں گے۔جس کا مطلب ہے کہ اس طرح اس پریس کی ایک چھوٹی درآمد شدہ مشین کی قیمت نکل آتی ہے یا ایک کمرے کا خرچ نکل آتا ہے۔پس آج میں اس کا اعلان کر رہا ہوں یہ سکیم تمام محلوں میں آجائے گی ۲۰ × ۱۰۰ فٹ رقبہ میں چھ انچ مٹی اٹھانا کوئی ایسا بڑا کام نہیں ہے کہ ایک محلے کے حصہ میں ۳ ہزارفٹ مٹی کی کھدائی آتی ہے بعض دفعہ خدام الاحمدیہ کے وقار عمل کی رپورٹ میں سات آٹھ ہزارفٹ مٹی اٹھانے کا ذکر ہوتا ہے۔غرض یہ ایک سکیم ہے جو آپ کے سامنے آجائے گی مجھے یقین کامل ہے کہ آپ بشاشت اور