خطباتِ ناصر (جلد5 ۔ 1973ء، 1974ء) — Page 66
خطبات ناصر جلد پنجم ۶۶ خطبہ جمعہ ۱۶ / مارچ ۱۹۷۳ء جاتی ہے۔اس لئے دوست دعا کریں کہ اللہ تعالیٰ بنی نوع انسان کے لئے رحمت کے سامان پیدا کرے اور جس خطرہ میں انسان آج خود کو پارہا ہے وہ خطرہ دور ہو جائے اور اُسے جملہ پریشانیوں اور گھبراہٹوں سے نجات مل جائے۔ہمارے ملک میں بھی فتنہ اور فسادزوروں پر ہے۔دوست دعا کریں ملک کی مضبوطی اور استحکام کے سامان پیدا ہوں اور اللہ تعالیٰ ہم عاجز بندوں کو اپنی ذمہ داریوں کو نباہنے کی تو فیق عطا کرے جو اُس نے ہمارے کمزور کندھوں پر ڈالی ہیں۔ربوہ میں درخت لگانے کا کام میری غیر حاضری میں ہوا۔جہاں تک درخت لگانے کا سوال ہے اچھا کام ہو گیا ہے۔شروع میں مجلس صحت کے کنویز چوہدری بشیر احمد صاحب کی رپورٹ تھی کہ اُنہوں نے تین ہزار درختوں کے لگانے کا انتظام کیا ہے۔میں نے انہیں کہا تین ہزار نہیں دس ہزار درخت لگنے چاہئیں۔چنانچہ اُن کی رپورٹ یہ ہے کہ آٹھ دس ہزار پودے لگ چکے ہیں ( یہ دو تین دن پہلے کی رپورٹ ہے ممکن ہے کچھ اور بھی لگ گئے ہوں ) اور کل چودہ ہزار درختوں کے حصول کے لئے کوشش کی جارہی ہے۔اس کا مطلب یہ ہوا کہ جتنا اُن کا پہلا اندازہ تھا اہل ربوہ نے اس سے قریباً چار گنا زیادہ پودے حاصل کئے اور لگائے ہیں۔جو درخت لگائے جاتے ہیں اُن میں بالعموم پچیس فیصد جڑ نہیں پکڑتے بعض کی تو کونپلیں نکلتی ہی نہیں۔بعض کی نکل کر مر جاتی ہیں۔جو درخت اپنے تنے پر کھڑے ہو جاتے ہیں اُن کو بعض نا واقف انسان کھڑے دیکھنا پسند نہیں کرتے مثلاً بچے ہیں یا بعض بڑے لوگ بھی ہوتے ہیں۔میں نے دیکھا ہے بعض اچھے سمجھدار لوگوں کو بے خیالی میں اُنگلیاں چلانے کی عادت ہوتی ہے۔درخت کے پاس کھڑے کھڑے اس کی ٹہنی توڑ دیں گے۔انہیں یہ احساس ہی نہیں ہو گا کہ وہ درختوں کا نقصان کر رہے ہیں اس لئے میں نے یہ اعلان کر دیا تھا ( مجھے پتہ لگا ہے کہ وہ اعلان تمام محلوں میں ہو گیا ہے ) کہ جہاں تک شجر کاری کے اس منصو بہ کا تعلق ہے اس میں کامیاب ہونے کے لئے ۴۰ فیصد نمبروں کی ضرورت ہے۔یعنی جتنے درخت کو کی محلہ لگائے اس کا کم از کم ۲۰ فیصد سے ضرور پالنا چاہیے جو محلے کم از کم ۴۰ فیصد درخت پالنے میں کامیاب ہو جائیں گے اور پھر اُن محلوں میں جو اول نمبر پر آئے گا ( مثلاً کسی نے پچپن فیصد پال لئے کسی نے ساٹھ فی صد پال لئے کسی نے اکسٹھ فیصد پال لئے ) اس کو پانچ صدر و پید انعام