خطباتِ ناصر (جلد5 ۔ 1973ء، 1974ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 62 of 836

خطباتِ ناصر (جلد5 ۔ 1973ء، 1974ء) — Page 62

خطبات ناصر جلد پنجم ۶۲ خطبہ جمعہ ۲ / مارچ ۱۹۷۳ء کہانی بنالی ہے۔کسی کو سمجھ نہیں آسکتا ایسا دماغ جس نے خدا کی معرفت کو حاصل نہیں کیا اور اس نے خدا تعالیٰ کی صفات سے لذت و سرور نہیں پایا۔وہ کہے گا یہ لوگ جھوٹ بولتے ہیں۔لیکن یہ کتنی عجیب بات ہے خدا نے فرما یا وَلَا خَوْفٌ عَلَيْهِمْ وَلَا هُمْ يَحْزَنُونَ۔میں تمہارے ساتھ ہوں تمہیں فکر کی کیا بات ہے؟ جاؤ میں تمہارے ساتھ ہوں۔اس وقت انگریزوں کی حکومت تھی ایک انگریز (S-P) ایس پی تھا۔غالباً وہ وہاں پولیس لے کے گیا ہوا تھا وہ تو مسجد سے باہر رہا اور آپ تو مسجد کے اندر چلے گئے تھے۔جب واپس آئے تو ہجوم حملہ آور ہوا ایک وہ ایس پی تھا انگریز جس پر دوسروں کی حفاظت کی ذمہ داری تھی اور ایک وہ خدا کا بندہ مہدی معہود جس کو خدا نے کہا تھا کہ تم میری حفاظت میں ہو۔دونوں باہر آئے۔ایک جگہ پر اکٹھے ہوئے۔ایس پی صاحب کے پتھر پڑے اور چوٹ آگئی لیکن خدا کے اس محبوب کو کوئی تکلیف نہیں ہوئی اور بڑے آرام سے گزر گئے۔جب انسان خدا کا ہو جاتا ہے تو پھر کوئی خوف باقی رہتا ہے اور نہ کوئی مخزن رہتا ہے۔پس خدا کی گود میں خود کو بٹھانے کی کوشش کرنی چاہیے اور جیسا کہ میں نے ابھی بتایا ہے جو بَلَى مَنْ أَسْلَمَ وَجْهَهُ لِلَّهِ وَهُوَ مُحْسِن کے مطابق حقیقی معنی میں مسلمان ہو گیا۔اعتقاداً اور عملاً اس نے اپنے وجود کو اللہ کے حضور پیش کر دیا اور اسے سونپ دیا اسے کوئی خوف اور حزن نہیں ہوسکتا۔و قرآن کریم نے اسلام اور مسلم کو دو مختلف معانی میں استعمال کیا ہے۔اس کے دوسرے معنے یہ ہیں کہ جو تمہیں سلام کہتا ہے اُسے تم یہ نہ کہو کہ تم مسلمان نہیں ہو۔وہ بالکل زبان کا ایک عام اقرار ہے۔حقیقی اسلام یعنی نفس کو خدا کے حضور سونپ دینے کا مطلب نہیں ہے وہاں یہ مطلب ہے کہ وَلَا تَقُولُوا لِمَنْ الْقَى إِلَيْكُمُ السَّلَمَ لَسْتَ مُؤْمِنًا (النساء: ۹۵) کہ جو تمہیں السلام علیکم کہے تمہارا حق یہ نہیں کہ تم کہو کہ تم مومن نہیں ہو۔وہ ظاہری حکم ہے جو ظاہری فساد کو روکنے کے لئے دیا گیا ہے اور اس کے اندر بڑی حکمت ہے لیکن اسلام کا وہ مقام جس کے بعد خوف اور حزن باقی نہیں رہتا وہ وہ مقام ہے جہاں انسان اپنے وجود کو اعتقاداً اور عملاً اپنے رب کے حضور پیش کر دیتا ہے اور اسے سونپ دیتا ہے۔