خطباتِ ناصر (جلد5 ۔ 1973ء، 1974ء) — Page 792
خطبات ناصر جلد پنجم ۷۹۲ خطبہ جمعہ ۱۵ نومبر ۱۹۷۴ء بہر حال اس وقت ہماری آنکھ وہ چیز دیکھ نہیں سکتی جو اُخروی زندگی میں خدا رسیدہ انسان کے لئے مقدر ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے بڑی وضاحت سے اس مضمون کو بیان فرمایا ہے۔یہ ایک علیحدہ مضمون ہے۔اس وقت میں بتا یہ رہا ہوں کہ خدا تعالیٰ اس دنیا میں صرف مومن ہی کو اُس کے دین اور دنیوی اعمال کی وجہ سے جزا نہیں دیتا بلکہ جولوگ مومن نہیں اُن کے جو اعمال ہیں اُن کا بھی نتیجہ ربّ ہونے کے لحاظ سے اور رحمن ہونے کے لحاظ سے نکالتا ہے یعنی وہ کوششیں ابھی اُن کی شروع بھی نہیں ہوئی تھیں کہ اُن کی کامیابی کے سامان اُس نے پیدا کر دیئے تھے اور درجہ بدرجہ اُن کو دُنیوی کامیابیوں کی طرف دنیوی کوششوں کے نتیجہ میں لے جا رہا ہے۔پس جس ملک میں خدا تعالیٰ کی منشا کے خلاف دُکھ پہنچانے کی ذہنیت زیادہ ہو جائے وہ قوم ترقی نہیں کیا کرتی اور خدا کو نہ پہچاننے والے اور اس کا عرفان نہ رکھنے والے بھی اگر اس اصول کو سمجھنے لگیں (خواہ وہ یہ نہ بھی سمجھیں کہ خدا نے یہ اصول قائم کئے ہیں ) لیکن اس اصول کو سمجھنے لگیں کہ دنیوی ترقیات کے لئے اجتماعی کوششیں ضروری ہیں تا کہ ہر فرد کے دُکھوں کو دُور کیا جائے تب ہی ملک کی حالت سدھر سکتی ہے کیونکہ اگر ہر فرد دکھی ہو گا تو وہ قوم خوشحال کیسے ہوگی ، اُس کے چہروں پر مسکراہٹیں کیسے آئیں گی۔یہ تو الہی جماعتوں کی استثنائی حالت ہے کہ دنیا والے سمجھتے ہیں کہ ہم اُنہیں دُکھ پہنچارہے ہیں مگر ان کے چہروں پر اسی طرح مسکراہٹیں ہوتی ہیں جس طرح پہلے تھیں۔میہ اس لئے ہوتا ہے کہ الہی سلسلوں کی مسکراہٹوں کا سرچشمہ خدا تعالیٰ کا پیار اور اُس کی رحمت ہوتی ہے۔کوئی دنیوی وجہ اُن کی مسکراہٹوں کی نہیں ہوتی اس لئے دنیا اُن کی مسکراہٹیں نہیں چھین سکتی۔خدا تعالیٰ کا پیار اُن کی مسکراہٹوں کا منبع ہوتا ہے اور خدا تعالیٰ کے پیار کو دنیا کی کوئی طاقت اُن سے چھین نہیں سکتی۔دنیا سمجھتی ہے کہ اُس نے انہیں عذاب میں مبتلا کیا مگر اُن کے دل خدا تعالیٰ کے پیار سے اس طرح بھرے ہوتے ہیں کہ اُن کے رُوئیں روئیں سے اُس کی لذت اور سرور پھوٹ پھوٹ کر باہر نکل رہا ہوتا ہے۔پس ان دو آیات کی تفسیر سے میں یہ نتیجہ نکالتا ہوں کہ دنیا میں دو قسم کے لوگ ہوتے ہیں