خطباتِ ناصر (جلد5 ۔ 1973ء، 1974ء) — Page 788
خطبات ناصر جلد پنجم ۷۸۸ خطبہ جمعہ ۱۵ /نومبر ۱۹۷۴ء اپنے ماتحت کر رکھا تھا چنانچہ اگر سنگا پور یا ملائشیا یا کسی اور دور دراز علاقے میں کسی انگریز کی دس ہزار پاؤنڈ کی حق تلفی ہوتی یعنی کوئی شخص کسی انگریز کے دس ہزار پاؤنڈ مار لیتا تو برطانوی حکومت اس دس ہزار پاؤنڈ کے حق کی ادائیگی کے لئے تیار ہو جاتی تھی اور پورا زور لگاتی تھی اور اپنی طاقت کے بل پر اُس کو دس ہزار پونڈ دلواتی تھی چاہے اس کے او پر اُسے کتنا بھی خرچ کیوں نہ کرنا پڑے گویا فرد واحد کو ذہنی ، جسمانی اور دنیاوی حقوق کے لحاظ سے دس ہزار پاؤنڈ کے ضیاع سے جودُ کھ پہنچا تھا، اس کو دور کرنے کے لئے ساری ایمپائر (Empire) متوجہ ہو جاتی تھی۔وہ یہ نہیں کہتی تھی کہ اتنی بڑی ہماری سلطنت ہے اور اتنی دولت ہمارے پاس جمع ہو چکی ہے ایک آدمی کے دس ہزار پاؤنڈ ضائع ہو گئے تو کیا بات ہے۔اس لئے کہ جو قوم اور مملکت اپنے شہریوں کو حقوق دلانے کے لئے ہر وقت چوکس اور بیدار نہیں رہتی وہ قوم اس دنیا میں ترقی نہیں کرسکتی، یہ ایک حقیقت ہے اور اس سے کوئی عقل مند انکار نہیں کر سکتا۔اس حقیقت کے باوجود استثنائی طور ہمیں انگریزوں میں سے ایسے لوگ بھی نظر آتے ہیں جو دوسروں کو ایذا پہنچا کر اور دُکھ دے کر خوشی اور مسرت حاصل کرتے ہیں۔اب تو اُن کی حالت بدل گئی ہے لیکن کسی وقت میں اُن کی بہت بڑی سلطنت تھی جس کے متعلق اُن کا یہ دعویٰ تھا کہ اُس پر سورج غروب نہیں ہوتا۔(اب تو غروب ہونے لگ گیا ہے ) تاہم غروب ہوتا ہے یا نہیں ، اس سے ہمیں کوئی غرض نہیں دراصل دیکھنے والی بات یہ ہے کہ انہوں نے جو ترقی کی ہے اس کے لئے انہوں نے رکن اصولوں کو اپنا یا تھا نیز ان میں سے ایک اصول یہ تھا کہ قوم کے دکھوں کو اور افراد کے دُکھوں کو دور کرنے میں قوم کی زندگی اور ترقی کا راز پوشیدہ ہے۔جیسا کہ میں نے بتایا ہے کہ کچھ لوگ دنیا میں ایسے بھی ہوتے ہیں جو دوسروں کو دُکھ پہنچا کر خوشی اور مسرت محسوس کرتے ہیں یعنی بگڑی ہوئی فطرت غلط رنگ میں دُنیا کے سامنے اپنی طاقت اور کوشش کا مظاہرہ کرتی ہے۔جو قومیں ترقی یافتہ نہیں ، اُن میں ہمیں یہی دو قسم کے لوگ نظر آتے ہیں۔ایک وہ جن کو اس راز کا علم نہیں ہے اور وہ اپنے ہی بھائی بند کو دکھ پہنچانے میں خوشی اور مسرت محسوس کرتے ہیں گویا وہ اپنی خوشی اور مسرت کے حصول کے لئے دوسروں کو دُ کھ پہنچاتے