خطباتِ ناصر (جلد5 ۔ 1973ء، 1974ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 712 of 836

خطباتِ ناصر (جلد5 ۔ 1973ء، 1974ء) — Page 712

خطبات ناصر جلد پنجم ۷۱۲ خطبه جمعه ۲۰ ستمبر ۱۹۷۴ء کی شکلیں یہ دکھا ئیں۔(اس کی بھی میں ایک مثال دے دیتا ہوں ) مثلاً روس ہے۔روس میں جماعت احمدیہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کو ریت کے ذروں کی طرح دکھائی گئی۔سارے روس کے ریت کے ذرے کون گن سکتا ہے۔یہاں دریا کے کنارے پر جا کر کسی دن کھڑے ہو کر اپنے پاؤں کے نیچے جو ریت کے ذرے آئیں ان کو گنے کی کوشش کرنا ، وہ بھی تم سے نہیں گنے جائیں گے۔یہ تو ایک چھوٹا سا حصہ ہے۔یہ زمانہ ساری دنیا میں اسلام کو غالب کرنے کا ہے۔اس کی خبر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو اس وقت دی گئی اور یہ بھی بتایا گیا کہ کن لوگوں کے ذریعہ سے یہ کام ہوگا۔پس بڑی ذمہ داریاں ہیں اور اپنے نفوس کی بڑی اصلاح کی ضرورت ہے اور خدا تعالیٰ سے بہت پختہ تعلق قائم کرنے اور قائم رکھنے کی ضرورت ہے۔اللہ تعالیٰ ہم سب کو اس کی تو فیق عطا کرے۔اور جہاں یہ کہا کہ استقلال سے ایمان پر قائم رہو وہاں یہ بھی کہا کہ کچھ لوگ وہ بھی ہیں جو ان وعدوں پر یقین نہیں رکھتے۔فَاصْبِرُ إِنَّ وَعْدَ الله حق تو ساتھ یہ کہا کہ جو ان وعدوں پر یقین نہیں رکھتے (ان سے ہوشیار رہو ) یہ یادرکھو کہ وہ تمہیں دھوکہ دے کر اپنی جگہ سے ہٹا نہ دیں۔ہر وقت محتاط رہنا۔اور دوسری چیز بنیادی طور پر جو اللہ تعالیٰ کی محبت کو جذب کرتی ہے جس کی طرف اس آیت میں اشارہ ہے قُل اِن كُنتُمْ تُحِبُّونَ اللهَ فَاتَّبِعُونِي يُحْبِبْكُمُ اللهُ (ال عمران : ۳۲) اگر تمہارے دل میں اللہ تعالیٰ کی محبت اس کی معرفت اور احسان کے بعد پیدا ہو چکی ہے تو یہ نہ سمجھنا کہ محض اس محبت کے پیدا ہو جانے کے نتیجہ میں اللہ تعالیٰ بھی تم سے پیار کرنے لگ جائے گا۔ایسا نہیں ہوگا۔اگر تمہارے دل میں سچی محبت ہے تو قرآن کہتا ہے کہ تمہیں یقین رکھنا چاہیے کہ تم اللہ تعالیٰ کی محبت کو جواب میں بھی حاصل کرو گے مگر اس کے لئے ایک شرط ہے قُلْ إِنْ كُنْتُمْ تُحِبُّونَ اللَّهَ فَاتَّبِعُونِي - اس کے لئے یہ شرط ہے کہ انسان محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی کامل اتباع کرنے کی کوشش میں ہر وقت لگا رہے۔اس اتباع کے بغیر اور محض معرفت کے نتیجہ میں کسی سینہ میں اللہ تعالیٰ کی محبت پیدا ہو جانے کی وجہ سے خدا تعالیٰ محبت کا سلوک نہیں کرتا۔بیچ میں اتباع محمد صلی اللہ علیہ وسلم ہے۔