خطباتِ ناصر (جلد5 ۔ 1973ء، 1974ء) — Page 709
خطبات ناصر جلد پنجم 2۔9 خطبه جمعه ۲۰ ستمبر ۱۹۷۴ء ہیں اس کی وسعت کا تصور کون کر سکتا ہے اور یہ فاصلہ بڑھتے بڑھتے ایک وقت میں اتنا ہو جاتا ہے کہ اس کے اندر بے شمار اور انگنت ” خاندانوں کی ایک مسی گیلکسی (Galaxy) سما سکے تو آدھے سائنسدان اس بات کے قائل ہو گئے ہیں کہ اس وقت خدا تعالیٰ کُن کہتا ہے اور یک دم بے شمار اور ان گنت خاندانوں کا ایک قبیلہ وہاں پیدا ہو جاتا ہے۔اور چونکہ یہ حرکت ایسی ہے کہ ان کا باہمی فاصلہ ہر وقت بڑھ رہا ہے تو گویا ہر وقت ان بے شمار سیلیکسیز (Galaxies) کے درمیان اور بے شمار سیلیکسیز (Galaxies) پیدا ہورہی ہیں اور ان کا کوئی خاتمہ نہیں۔پس خدا تعالیٰ کی صرف صفت خلق میں اتنی وسعت ہے تو خدا تعالیٰ کو ہماری عقل اپنے احاطہ میں لے ہی نہیں سکتی اور جب ہم نے اس عظیم ہستی پر کامل تو گل کر کے اپنی زندگیوں کو اس کے مطابق ڈھالا تو پھر کسی اور کے سامنے تذلل کے ساتھ ہم جھک کیسے سکتے ہیں؟ تو یہ ہے صبر جس کے نتیجہ میں اللہ تعالیٰ کا پیار حاصل ہوتا ہے۔صبر کے متعلق بہت سی آیات ہیں جن پر درجنوں خطبے دیئے جاسکتے ہیں لیکن میں آپ کو ایک احمدی کی حقیقت حیات سمجھانے کے لئے مثالیں دے رہا ہوں کہ ایک احمدی ایسا ہے جو صبر کرتا ہے کیونکہ وہ کہتا ہے کہ میں نے اللہ تعالیٰ کا پیار حاصل کرنا ہے اور اللہ تعالیٰ کہتا ہے کہ جوصبر کرے گا وہ میرا پیار حاصل کرے گا۔دوسری جگہ سورہ بقرہ میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا۔يَايُّهَا الَّذِينَ امَنُوا اسْتَعِينُوا بِالصَّبْرِ وَالصَّلوةِ إِنَّ اللهَ مَعَ الصُّبِرِينَ ( البقرۃ : ۱۵۴) پہلے جو آیت میں نے پڑھی ہے اس کا مفہوم یہ تھا کہ اللہ صبر کرنے والے سے پیارا اور محبت کرتا ہے اور یہاں یہ مفہوم ہے کہ اللہ تعالیٰ کا صبر کرنے والے سے ہر قسم کا اچھا تعلق ہے۔اِنَّ اللهَ مَعَ الصّبِرِينَ میں اس پہلے تصور سے بڑھ کر ایک تصور پیش کیا گیا ہے اور صبر کی جو صفت مومن کو اپنے اندر پیدا کرنے کو کہا اس سے ایک اور امر کی طرف توجہ دلائی اور گویا ساری زندگی کی روحانی کوشش کو ان دو چیزوں کے اندر محدود کر دیا یعنی صبر اور صلوٰۃ ( یعنی دعا) کہ اگر تم صبر اور دعا سے میری مدد چاہو گے تو میں ہر وقت تمہارے ساتھ رہوں گا۔ایک تو اس سے ہمیں یہ پتہ لگا کہ خالی دعا ( بغیر تدبیر کے ) بالکل بے نتیجہ ہے کیونکہ یہ نہیں کہا کہ جو محض صلوۃ سے کام لیتا ہے دعا کرتا ہے اس کی زندگی کی کوششیں ثمر آور ہوں گی۔یہ کہا کہ