خطباتِ ناصر (جلد5 ۔ 1973ء، 1974ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 707 of 836

خطباتِ ناصر (جلد5 ۔ 1973ء، 1974ء) — Page 707

خطبات ناصر جلد پنجم ۷۰۷ خطبه جمعه ۲۰ ستمبر ۱۹۷۴ء مصیبتوں میں ڈالتا ہوں، اگر میرے ساتھ پیار سچا ہو تو اس ابتلا اور امتحان کے اوقات میں میری محبت کے اظہار میں نہ ستی پیدا ہوتی ہے اور نہ میرے ساتھ عشق کے تعلق میں کمزوری اور ضعف پیدا ہوتا ہے بلکہ جوں جوں اسے مصائب میں مبتلا کیا جاتا ہے اور پیسا جاتا ہے اسی نسبت سے اس کا پیار زیادہ ابھرتا ہے اور وہ ایسے اعمال بجالاتا ہے جن کے ذریعہ سے خدا تعالیٰ کی محبت جو وہ خدا سے حاصل کرتا ہے وہ پہلے سے کہیں زیادہ ہوتی ہے۔اس کے جلوے زیادہ حسین اور اس کا عرفان ( بندہ کے دل میں ) نسبتاً بہت زیادہ عظمتوں والا بن جاتا ہے۔کلیۂ (اور کامل طور پر ) تو محسن اور احسان کا مالک اللہ تعالیٰ کی ذات ہے مگر اس کی صفات کے جلوے اپنے بندوں کے ساتھ ان کے پیار اور ان کے اعمال کے مطابق ظاہر ہوتے ہیں اس لئے ہر شخص پر خدا تعالیٰ کے پیار کا جلوہ ایک جیسا نہیں ہوتا بلکہ ہر شخص پر اس کی محبت اور اس کی قربانی اور ایثار اور اس کے صبر اور دوسری وہ چیزیں جن سے اللہ تعالیٰ پیار کرتا ہے ان کے مطابق ہوتا ہے اور اس کی استعداد کے مطابق ہوتا ہے۔یہ ایک دوسرا رنگ ہے۔کسی کی استعداد تھوڑی ہے کسی کی زیادہ ہے اسی کے مطابق اللہ تعالیٰ کی صفات کے جلوے جو اس کے حسن اور احسان کے جلوے جو اس کے پیار اور رضا کے جلوے اسی کے مطابق نسبتاً کم یا زیادہ صورت میں اس پر ظاہر ہوتے ہیں۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ میں اس صبر کرنے والے سے پیار کرتا ہوں جسے میری راہ میں دکھ دیا جاتا ہے۔اس میں نہ کمزوری واقع ہوتی ہے نہ ضعف واقع ہوتا ہے بلکہ پہلے سے بھی زیادہ بشاشت کے ساتھ اور پہلے سے بھی زیادہ ذوق اور شوق کے ساتھ (جیسا کہ میں نے بتایا رمضان کی عبادتوں میں یہ انسان کی حالت روحانی ہو جاتی ہے) میرا بندہ میری طرف بڑھتا ہے اور جتنی تیزی سے وہ میری طرف بڑھتا ہے اس سے زیادہ تیزی کے ساتھ میں اس کی طرف بڑھ رہا ہوتا ہوں۔یہ اس کی جزا ملتی ہے۔اور اس آیت میں صبر کے دوسرے معنی یہ کئے گئے ہیں کہ مخالف کے سامنے تذلیل اختیار نہ کرنا بلکہ غیر اللہ کے سامنے تذلل توحید سے بعد کا نام ہے کیونکہ جو تو حید خالص پر قائم ہوتا ہے وہ تو غیر اللہ کو ایک مرے ہوئے کیڑے کی مانند بھی نہیں سمجھتا اور حقیقت بھی یہی ہے۔آپ خود بھی سوچیں کہ جس پاک وجود یعنی ہمارے اللہ نے اتنے بڑے عالمین (Universe)