خطباتِ ناصر (جلد5 ۔ 1973ء، 1974ء) — Page 686
خطبات ناصر جلد پنجم ۶۸۶ خطبہ جمعہ ۶ ستمبر ۱۹۷۴ء خدا تعالیٰ کا رنگ ہم پر نہیں چڑھ سکتا۔تَخَلَقُوا بِأَخْلَاقِ الله یہ لفظ ہمیں بتاتا ہے۔اس سلسلہ میں میں بتا دیتا ہوں۔حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے پوچھا گیا کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے اخلاق کیا ہیں تو آپ نے کہا قرآن کریم (خُلُقُهُ الْقُرآن)۔قرآنِ کریم کیا ہے؟ ( یہ اب میں پوچھتا ہوں۔) اوامر و نواہی یعنی احکام کا مجموعہ ہے۔برکات کا مجموعہ اور احسان کا مجموعہ ہے۔پس حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا کہ قرآنِ کریم سارے کا سارا محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی میں جلوہ گر ہے اور محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی ساری زندگی قرآنی اخلاق سے مزین اور خوبصورت بنی ہوئی ہے اور ہمارے لئے وہ اُسوہ ہے اس لئے دوسرے جزو کی ضرورت ہے کہ اگر اللہ تعالیٰ کی کامل اتباع بندے نے کرنی ہو اس کا پورا اور حقیقی فرمانبردار بننا ہو تو اس کے فرمان کا علم ہونا چاہیے۔فرمانبردار تبھی بنے گا کہ جو اس کا حکم ہے اس کا پتہ ہو۔اگر فرمانبردار ہم نے بننا ہے اور حقیقی فرمانبردار بنتا ہے تو اس کے فرمان کا ہمیں علم ہونا چاہیے اور ساری دنیا کی طرف اللہ تعالیٰ کا فرمان لانے والے حضرت خاتم الانبیاء محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہیں۔تو فرمان کے علم کے لئے فرمان لانے والے پر یقین ہونا چاہیے کہ جو یہ کہہ رہا ہے کہ خدا تعالیٰ یہ احکام ، یہ اوامر، یہ نواہی ، یہ سبق اور زندگی کے مختلف شعبوں کے یہ اصول بیان کئے ہیں وہ سچا ہے۔اس کے بغیر تو آپ فرمان پر ایمان نہیں لائیں گے اور نہ آپ اس کے بغیر اتباع کر سکتے ہیں اور نہ خدا تعالیٰ کو اپنا مطاع بنا سکتے ہیں۔پس لا اله إلا الله نے تقاضا کیا کہ اس عظیم اور جلیل القدر ہستی پر ہم ایمان لائیں۔جو خدا تعالیٰ کی کامل شریعت اور کامل ہدایت دنیا کی طرف لانے والا تھا یعنی محمد صلی اللہ علیہ وسلم۔پس کلمہ طیبہ کا دوسرا حصہ مُحَمَّدٌ رَّسُولُ اللهِ ہے اس میں دو ایمانوں کی طرف اشارہ ہے۔خالی حکم انسان کو پوری طرح عمل کرنے کا اہل نہیں بنا تا جب تک کوئی نمونہ سامنے نہ ہو۔تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی دو حیثیتیں ہیں اور دونوں بڑی پیاری حیثیتیں ہیں دونوں ہمیں آپ کا عاشق بنانے والی ہیں۔ایک یہ کہ آپ کامل ہدایت اور شریعت لے کر آئے اور دوسرے یہ کہ ان احکام کی بجا آوری میں نوع انسانی کے لئے آپ ایک کامل نمونہ بنے۔آپ اُسوہ حسنہ تھے۔