خطباتِ ناصر (جلد5 ۔ 1973ء، 1974ء) — Page 645
خطبات ناصر جلد پنجم ۶۴۵ خطبہ جمعہ ۱۹؍ جولائی ۱۹۷۴ء پاکستان ہمارا اپنا ملک ہے جس کے لئے ہم نے بڑی قربانیاں دی ہیں خطبه جمعه فرموده ۱۹ / جولائی ۱۹۷۴ء بمقام مسجد اقصیٰ ربوہ تشہد وتعوذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد حضور انور نے فرمایا:۔گذشتہ تین دن بے آرامی میں گزرے۔دورا تیں تو سفر بھی کرنا پڑا۔سفر سے پہلی رات تو ویسے ہی تکلیف دہ تھی۔وہ رات پریشانی میں گذری اور جس انفلوئنزا کی بیماری سے کافی حد تک نجات حاصل ہو چکی تھی سفر کی وجہ سے وہ تکلیف پھر ہوگئی ہے اور گلے کی خراش بڑھ گئی ہے۔اللہ تعالیٰ فضل کرے آپ بھی دعا کریں۔دنیا میں ہر ملک کے شہری مختلف گروہوں میں تقسیم کئے جاسکتے ہیں ایک تقسیم تو یہ ہے کہ بعض شہری اچھے شہری ہوتے ہیں اور بعض شہری اچھے نہیں ہوتے۔دنیا کے ہر ملک میں ہمیں ایسا نظر آتا ہے دوسری تقسیم یہ ہے کہ بعض لوگوں کے نزدیک اچھے شہری سے ایک بات مراد لی جاتی ہے اور بعض دوسرے لوگوں کے نزدیک اچھے شہری سے ایک اور چیز مراد لی جاتی ہے۔یعنی بعض کہتے ہیں کہ اچھے شہری کی یہ یہ صفات ہونی چاہئیں اور بعض دوسرے کہتے ہیں کہ اچھے شہری کی (اس سے مختلف ایک حد تک یا بعض دفعہ متضاد) یہ یہ صفات ہونی چاہئیں۔اس تفصیل میں تو میں اس وقت نہیں جاؤں گا۔میں بتانا یہ چاہتا ہوں کہ اسلام کے نزدیک (جیسا کہ ہم نے اسلام کو مہدی موعود علیہ الصلوۃ والسلام